| جنت میں لے جانے والے اعمال |
کی بارگاہ میں کیا گیا اور اس کی فضیلت بیان کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''کیا دوسرابھائی مسلمان نہیں تھا؟''تو صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ،''کیوں نہیں اور اس میں کوئی برُائی نہیں تھی۔'' تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا'' تمہیں کیا معلوم کہ اس کی نَماز نے اسے کہاں پہنچادیا؟ نَمازکی مثال ایسی ہے کہ تم میں سے کسی کے دروازے پر میٹھے پانی کی بڑی نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غوطے لگائے تو تمہارا کیا خیال ہے اس کے بدن پر کوئی میل باقی رہے گی؟ تمہیں کیا معلوم کہ اس کی نَماز نے اسے کہاں تک پہنچا دیا؟''
(مسند احمد ، مسند ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص ،رقم ۱۵۳۴ ، ج ۱، ص ۳۷۵)
(۱۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں قُضاعہ کے قبیلے بَلِیّ کے دو بھائی نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر ایمان لا ئے ۔ان میں سے ایک شہید ہوگیا اور دوسرا ایک سال تک زند ہ رہا۔ حضرتِ سیدنا طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ'' میں نے خواب میں دیکھا کہ بعد میں فوت ہونے والے بھائی کو اپنے شہید بھائی سے پہلے جنت میں داخل کردیا گیاہے ۔''مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا صبح ہوئی تو یہ بات سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی تو سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''کیا اس نے شہید (بھائی)کے بعدرمضان کے روزے نہیں رکھے ؟اور پھرچھ ہزار رکعتیں نہیں پڑھیں؟ اور سال میں اتنی اتنی رکعتیں ادا نہیں کیں ؟'' ابن حبان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ'' تو پھر ان دونوں کے درمیان زمین وآسمان کی دوری کیوں نہ ہو ۔''
(مسند احمد ،مسند ابی اسحاق ابی محمد طلحۃ بن عبد اللہ ،رقم ۱۴۰۳ ،ج۱، ص ۳۴۴ بتغیر قلیل)
(۱۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نےشہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ ،'' تمہارا کیا خیال ہے اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے تو کیا اس کے جسم پر میل بچے گا؟''صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیاکہ ''اس کے بدن پر کچھ میل نہ بچے گا ۔''تو ارشا د فرمایا،'' یہی مثال ان پانچ نَمازوں کی ہے کہ اللہ عزوجل ان کے سبب گناہوں کو مٹادیتاہے ۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب مواقیت الصلوۃ ، با ب الصلوۃ الخمس کفارۃ، رقم ، ۵۲۸ ،ج۱ ،ص ۱۹۶)
(۱۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نےخاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' پانچ نَمازیں درمیان کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں ۔''پھر نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص کسی جگہ کام میں مصروف ہو اور اس جگہ اوراس کے گھرکے درمیان پانچ نہریں بہتی ہوں جب وہ اپنے کام کرنے کی جگہ پر آئے اور اللہ عزوجل کی مشیئت سے وہ کوئی کام کرے اوراس دوران اس پر گرد پڑے یااسے پسینہ آئے پھر جب بھی وہ کسی نہر