| جنت میں لے جانے والے اعمال |
ہے؟پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کے چہرے پر ایسی مسرت تھی جو ہمیں سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند تھی۔ پھر فرمایا''جو شخص پانچ نَماز یں ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنے مال سے زکوٰۃ نکالے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اوراس سے کہا جاتا ہے کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ ''
(سنن نسائی ،کتاب الزکاۃ ، با ب وجوب الزکاۃ، ج۵ ،ص ۸)
(۱۴۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیدنا سَلْمَان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس درخت کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑا اور اسے ہلایا یہاں تک کہ اس کے پتے جھڑ گئے پھر فرمایا،'' اے ابوعثمان !کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟ ''میں نے پوچھا کہ'' آپ نے ایسا کیوں کیا ؟''توفرمایا،'' ایک مرتبہ میں رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا تو سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا اور اس درخت کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر ہلایایہاں تک کہ اس کے پتے جھڑ گئے پھر فرمایا ،''اے سَلْمَان ! کیاتم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں نے یہ عمل کیوں کیا ؟''
میں نے عرض کیا،'' آپ نے ایسا کیوں کیا ؟''ارشاد فرمایا'' بیشک جب مسلمان اچھی طرح وضو کرتاہے اورپانچ نَمازیں ادا کرتاہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح یہ پتے جھڑجاتے ہیں۔'' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی ،وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ﴿114﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو۔(پ 12، ھود: 114)
(مسند احمد ، حدیث سَلْمَان فارسی ، رقم ۲۳۷۶۸ ، ج ۹، ص ۱۷۸)
(۱۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' مسلمان جب نَماز پڑھتاہے تو اس کے گناہ اس کے سر پر رکھ دئیے جاتے ہیں جب بھی وہ سجدہ کرتاہے اس کے گناہ جھڑنے لگتے ہیں لہذا جب وہ اپنی نَماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے تمام گناہ جھڑ چکے ہوتے ہیں۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۶۱۲۵ ،ج ۶،ص ۲۵۰)
(۱۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ دو بھائی تھے ،ان میں سے ایک بھائی کا دوسرے بھائی کی وفات سے چالیس راتیں پہلے انتقال ہوگیا۔ ان میں سے پہلے مرنے والے کا ذکرسرورِ عالم ، نورِ مجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم