| جنت میں لے جانے والے اعمال |
بعد میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟''فرمایا،'' اللہ عزوجل کی اس طرح عبادت کرو کہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤاور فرض نَماز یں اداکرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔'' تو اس نے عرض کیا ''مجھے اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں اس پر زیادتی نہ کروں گا ۔''جب وہ لوٹ گیا تو سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''جو کسی جنتی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔''
(صحیح بخاری ، کتاب الزکاۃ ،باب وجوب الزکاۃ ، رقم ۱۳۹۷، ج ۱، ص ۴۷۲)
(۱۳۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےشہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سنا''اللہ عزوجل نے بندوں پر پانچ نَمازیں فرض فرمائی ہیں تو جو انہیں ادا کریگا اور ان کے حق کو ہلکا جانتے ہوئے انہیں ضائع نہ کریگا تواللہ عزوجل کا اس سے عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گااور جو انہیں ادا نہیں کریگا اس کا اللہ عزوجل کے پا س کوئی عہد نہیں اگر اللہ عزوجل چاہے تواسے عذاب دے چاہے تو اسے جنت میں داخل فرمائے ۔''
ابو داؤد شریف کی روایت کے الفاظ یوں ہيں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ' 'اللہ عزوجل نے پانچ نَمازیں فرض فرمائی ہیں ، جو ان کے لئے بہتر طریقہ سے وضو کرے اور انہیں ان کے وقت میں ادا کرے اور ان کے رکوع وسجود،خشوع کے ساتھ پورے کرے تو اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے اور جو انہیں ادا نہیں کریگا تواللہ عزوجل کے ذمہ اس کے لئے کچھ نہیں چاہے تو اسے معاف فرمادے اور چاہے تو اسے عذاب دے۔ ''(سنن ابوداؤد ، کتا ب الصلوۃ ، با ب المحا فظۃ علی وقت الصلوات، رقم ۴۲۵، ج۱، ص ۱۷۶)
(۱۴۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہيں کہ ایک شخص نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''نَماز۔'' اس نے پوچھا،''اس کے بعد ؟ ''فرمایا ''نَماز۔'' اس نے عرض کیا ''اس کے بعد؟ ''فرمایا ''نَماز۔'' اس نے عرض کیا ''اس کے بعد ؟'' فرمایا'' اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ۔''
(مسند احمد ،مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص ، رقم ۶۶۱۳ ،ج ۲ ،ص ۵۸۰)
(۱۴۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت سیدنا ابو سَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک دن ہمیں خطبہ دیتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا،'' قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جا ن ہے!''یہ فرمانے کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر نگاہیں جما دیں تو ہم میں سے ہر شخص روتے ہوئے زمین کی طرف متوجہ ہوا حالانکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے قسم کیوں اٹھائی