Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
74 - 736
(5) وَالَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِمْ وَ اَقَامُوۡا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّیَدْرَءُوۡنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عُقْبَی الدَّارِ ﴿ۙ22﴾جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوۡنَہَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ ﴿ۚ23﴾سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ﴿ؕ24﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور وہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نَماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا اور برائی کے بدلہ بھلائی کرکے ٹالتے ہیں انہیں کے لئے پچھلے گھر کا نفع ہے بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں ان کے باپ دادا اور بی بیوں اور اولاد میں اور فرشتے ہر دورازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا۔''(پ 13، الرعد: 22،23،24)
(6)قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿1﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوۡنَ ۙ﴿2﴾ وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿9﴾اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوَارِثُوۡنَ ﴿ۙ10﴾الَّذِیۡنَ یَرِثُوۡنَ الْفِرْدَوْسَ ؕ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿11﴾
ترجمہ کنزالایمان :بے شک مرا د کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نَماز میں گڑگڑ اتے ہیں۔اور وہ جو اپنی نَمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(پ 18، المومنون: 1 ،2،9،10،11)
(7) وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿56﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور نما ز برپا رکھو او رزکوۃ دو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اس امید پر کہ تم پر رحم ہو۔(پ18، النور: 56)
(8) اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :بے شک نما ز منع کرتی ہے بے حیائی او ربری بات سے ۔(پ21 ، العنکبوت: 45)
(9) ۪ۙوَ الَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ﴿ؕ34﴾اُولٰٓئِکَ فِیۡ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوۡنَ
ترجمہ کنزالایمان :اوروہ جو اپنی نَماز کی حفا ظت کرتے ہیں یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا۔''(پ 29 ، المعارج : 34 ۔35)
اس بارے میں احادیث ِمبارکہ :
(۱۳۸)۔۔۔۔۔۔ حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نےنبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جسے کرنے کے
Flag Counter