(صحیح مسلم ، کتاب صلوۃ المسافر ین ، قصرھا ، باب افضل الصلوۃ طول القنوت ،رقم ۷۵۶،ص۳۸۰)
(۱۳۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن حُبشی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے پوچھا گیا کہ'' کونسا عمل سب سے افضل ہے؟'' فرمایا،'' طویل قیام۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب التطوع ، با ت افتتاح صلاۃ اللیل بر کعتین ، رقم ۱۳۲۵ ، ج ۲ ، ص ۵۳)
اس سے قبل کثرت سے سجود کے فضائل والی روایات بھی گزر چکی ہیں بعض علماء کا کہناہے کہ دن کے وقت سجدے کثرت سے کرناافضل ہیں جبکہ رات کے وقت طویل قیام کرنا افضل ہے جیساکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نَماز کے طریقہ سے متعلق روایات میں آیاہے۔ اس طرح دونوں طرح کی روایات میں تطبیق یعنی مطابقت بھی ہوجاتی ہے ۔واللہ تعالی اعلم۔