| جنت میں لے جانے والے اعمال |
عرض کیا'' مجھے کچھ مہلت دیجئے تا کہ میں کچھ سوچ سکوں ۔''پھر میں نے سوچا کہ دنیا فانی ہے اور ختم ہونے والی ہے، لہذا میں نے عرض کیا،'' یا رسول اللہ!میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا ہوں کہ آپ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں میرے لئے جہنم سے نجات اور جنت میں داخلے کی دعا فرمائیں۔''
سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' تمہیں اس بات کےسوال کا کس نے کہا؟ ''میں نے عرض کیا،'' مجھ سے کسی نے نہیں کہا لیکن میں نے جان لیا کہ دنیا فانی اور ختم ہونے والی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں وہ مرتبہ حاصل ہے جوآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہی کے لائق ہے۔لہذا میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے اللہ عزوجل سے دعا کریں ۔''تو آپ نے فرمایا،'' میں ایسا کروں گاجب کہ تم اپنے نفس کے خلاف کثرت سجود سے میری مدد کرو۔ ''(صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ، با ب فضل السجود والحث علیہ ،رقم ۴۸۹ ،ص ۲۵۲)
(۱۳۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''اللہ عزوجل کے نزدیک بندے کی کوئی حالت ایسی نہیں جو سجدہ میں بندے کے چہرے کو مٹی میں لتھڑے ہوئے دیکھنے سے زیا دہ محبوب ہو۔''
(طبرانی اوسط ، رقم ۶۰۷۵ ،ج ۴ ،ص ۳۰۸)
(۱۳۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے فرمایاکہ'' اے ابو فاطمہ ! اگر تم مجھ سے ملناچاہتے ہو تو کثر ت سے سجدے کیا کرو۔''
ابن ماجہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے عرض کیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیک وسلم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کیا کروں اور اس پر ثابت قدمی اختیا ر کروں؟'' فرمایا،'' سجدے کیا کرو کیونکہ جب تم اللہ عزوجل کو ایک سجدہ کرو گے اللہ عزوجل اس کے سبب تمہار ا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور تمہارا ایک گناہ معاف فرمادے گا۔''(سنن ابن ماجہ ،کتا ب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیھا، رقم ۱۴۲۲، ج۲ ،ص ۱۸۱)
(۱۳۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''جو اللہ عزوجل کو ایک سجدہ کریگا اللہ عزوجل اس کے لئے ایک نیکی لکھے گا اوراس کی ایک خطا مٹا دیگا اور اس کاایک درجہ بلند فرمائے گا۔''
(مسند احمد ، مسند الانصار / حدیث ابی ذر غفا ری ، رقم ۲۱۳۷۵، ج ۸، ص۷۲)
(۱۳۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر،