Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
70 - 736
اللہ عزوجل سے مغفر ت طلب کی تو اللہ عزوجل اس کی مغفرت فرمادے گا۔''
(مسند احمد ، بقیۃ حدیث ابی دَرْدَاء ، رقم ۶۱۶ ۲۷، ج ۱۰ ،ص ۴۳۰)
(۱۲۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا مَعدان بن ابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میری ملاقات حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوئی تو میں نے عرض کیاکہ ''میں کون سا ایسا عمل کروں جس کی وجہ سے اللہ عزوجل مجھے جنت میں داخل فرمادے یا (یہ کہا کہ)مجھےاس عمل کے بارے میں بتایئےجو اللہ عزوجل کو زیادہ پسندیدہ ہو ۔''تو حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ خاموش ہوگئے۔ میں نے دوبارہ یہی سوال کیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ پھر بھی خاموش رہے ۔جب میں نے تیسری مرتبہ عرض کیا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ، ''جب میں نے رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا تھاتو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھاکہ'' کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم جب بھی اللہ عزوجل کو سجد ہ کرو گے اللہ عزوجل تمہارا ایک درجہ بلند فرمادے گا اور اس کے بدلے تمہاری ایک خطا معاف فرمادے گا۔''
    (صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ، با ب فضل السجود والحث علیہ ، رقم ۴۸۸، ص ۲۵۲)
(۱۳۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُبَادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،'' جو بند ہ اللہ عزوجل کو ایک مرتبہ سجدہ کرتا ہے، اللہ عزوجل اس کے سبب سجدہ کرنے والے کیلئے ایک نیکی لکھتاہے اور اسکا ایک گناہ مٹادیتاہے اور اس کا ایک درجہ بلند فرمادیتاہے، لہذا کثرت سے سجدے کیا کرو۔''
   (سنن ابن ماجہ ، کتاب اقامۃ الصلوۃ ،باب ماجاء فی کثرۃ السجود ، رقم ۱۴۲۴ ،ج ۲ ،ص ۱۸۲)
(۱۳۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ربیعہ بن کَعْبْ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حاضر رہتااور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں وضو اور حاجت کیلئے پانی پیش کیا کرتاتھا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا،'' مجھ سے مانگو ۔''تو میں نے عرض کیا ، ''میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا طلبگار ہو ں۔'' ارشادفرمایا،'' کچھ اور بھی چاہیے؟ ''میں نے عرض کیا، ''بس یہی کافی ہے۔'' فرمایا،'' تو پھر اپنے نفس کے خلاف کثرت سے سجدے کرکے میری مدد کرو۔''

    طبرانی کی روایت اس سے طویل ہے اس کے الفاظ یوں ہیں کہ میں دن میں رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیاکرتا تھا اور جب رات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے مقدس دولت کدے کے دروازے کو رات کا ٹھکانا بنالیتا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی قربت میں رات بسر کرتا اور ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو
سُبْحَانَ اللہِ، سُبْحَانَ اللہِ سُبْحَانَ رَبِّیْ
کہتے ہوئے سنتایہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم توقف فرماتے یا مجھ پر نیند غالب آجایا کرتی اور میں سو جاتا ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''اے ربیعہ!مجھ سے مانگو تاکہ میں تمہیں کچھ عطا کروں۔'' میں نے
Flag Counter