| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۲۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' ثابت قدم رہو اور (اس کی برکتیں ) ہر گز شمار نہ کر سکو گے اوریاد رکھو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نمازپڑھنا ہے او ر مومن ہی ہر وقت باوضورہ سکتا ہے ۔''
(سنن ابن ماجہ ، کتا ب الطھارۃ ، با ب المحافظۃ علی الوضوء ،رقم ۲۷۷، ج ۱، ص ۱۷۸)
(۱۲۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' صفائی نصف ایمان ہے اور ''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ'' میزان کو بھر دیتی ہے اور'' سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ'' زمین وآسمان کے درمیان ہر چیز کو بھر دیتے ہیں اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل یعنی رہنما ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف حجت ہے۔''
(صحیح مسلم، کتا ب الطہارۃ ،با ب فضل الوضوء ، رقم ، ۲۲۳ ، ص ۱۴۰ )
(۱۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم موسم سرما میں باہر تشریف لائے جبکہ درختوں کے پتے جھڑ رہے تھے توآپ نے ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کر اس کے پتے جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا،'' اے ابوذر!'' میں نے عرض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! میں حاضر ہوں۔'' تو ارشادفرمایا،'' بےشک جب کوئی مسلمان 'اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نَماز پڑھتاہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑرہے ہیں ۔''
(مسند احمد ، مسند الانصار/ حدیث ابی ذر غفاری ، رقم ۲ ۲۱۶۱ ، ج ۸،ص ۱۳۳)
(۱۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' نَماز ایک بہترین عمل ہے جو اس میں اضافہ کرسکے تو وہ ضرور کرے۔''
(مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، باب فضل الصلوۃ ،رقم ۳۵۰۵ ، ج ۲ ،ص ۵۱۵)
حضرتِ سیدنا بکر بن عبد اللہ المزنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،''اے ابن آدم! تیری مثل کون ہے؟ جوجب چاہے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں بغیر اجازت حاضرہوجائے ۔''ان سے پوچھا گیا ،''وہ کس طرح؟ ''توفرمایا،'' تم پورا وضو کرکے اپنی محراب(جائے نماز) میں داخل ہوجاتے ہو توتم اس وقت کسی ترجمان کے بغیر اپنے رب عزوجل کے ساتھ ہم کلام ہوجاتے ہو ۔''