| جنت میں لے جانے والے اعمال |
شفاعت اس کے لئے واجب ہو جائے گی ۔''
ایک اور روایت میں ہے کہ اذان کے بعد رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیاکر تے تھے،'' اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّآمَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ صَلِّ عَلٰی عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَاجْعَلْنَا فِیْ شَفَاعَتِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
ترجمہ :اے اللہ عزوجل اے اس کامل دعوت اور قائم کی جانے والی نما ز کے رب!تو اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمااور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت پانے والو ں میں شامل فرما۔ ''
اورفرمایا کرتے کہ'' اذان کے بعد جو شخص یہ کلمات کہے گا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن ان لوگوں میں شامل فرمائے گا جن کی میں شفاعت کروں گا۔''( مجمع الزوائد، رقم ۱۸۷۸ ، ۱۸۷۹ ،ج ۲ ،ص ۹۴ )
(۱۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''اذان اور اقامت کے درمیا ن دعا رد نہیں کی جاتی۔''
(سنن ابی داؤد ، کتاب الصلوۃ ،باب ماجاء فی الدعا ء بین الاذان ولاقامۃ ،رقم ۵۲۱، ج۱، ص ۲۲۰)
ترمذی کی روایت میں ہے صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! تو ہم کیا دعا مانگا کریں؟'' فرمایا ،''اللہ عزوجل سے دنیا اور آخرت میں عفو وعافیت مانگا کرو۔ ''
اِقامت کے وقت دعا کرنے کا ثواب
(۱۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' دو ساعتیں ایسی ہیں جن میں دعا مانگنے والے کی دعا رد نہیں کی جاتی (۱)جب نَماز کے لئے اقامت کہی جائے (۲)اللہ عزوجل کی راہ میں باندھی گئی صف میں۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، کتا ب الصلوۃ ، با ب صفۃ الصلوۃ ، رقم ۱۷۶۱ ، ج ۳ ،ص ۱۲۸)
(۱۲۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا'' جب نَماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے ۔''
(مسند احمد ، مسند جابربن عبداللہ ، رقم ۱۴۶۹۵ ،ج ۵، ص ۱۰۷)