Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
65 - 736
اذان کے جواب کا ثواب
(۱۱۲)۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا'' جب مؤذن
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ
کہے تو تم میں سے کوئی
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ
کہے، پھر مؤذن
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّاللہُ
کہے تووہ شخص
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہے، پھر مؤذن
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ
کہے تووہ شخص
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ
کہے ،پھر مؤذن
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
کہے تووہ شخص
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
کہے ،پھر مؤذن
حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ
کہے تو وہ شخص
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
کہے ، پھرجب مؤذن
اَللہُ اَکْبَرُ اللہُ اَکْبَرُ
کہے تو وہ شخص
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ
کہے اور جب مؤذن
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہے اور یہ شخص دل سے
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہے تو جنت میں داخل ہوگا۔''
    (صحیح مسلم ، کتاب الصلوۃ ، باب استجاب القول مثل قول الموذن الخ، رقم ۳۸۵، ص ۲۰۳)
(۱۱۳)۔۔۔۔۔۔ حضر ت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ سيّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا،'' جو شخص مؤذن کی آواز سن کر یہ دعا پڑھے گا اللہ عزوجل اسکے گناہ بخش دے گا،
    '' وَاَنَا اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَ ہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ ہٗ وَرَسُوْلُہٗ رَضِیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رَسُوْلاً
ترجمہ:اور میں گو اہی دیتا ہو ں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبو د نہیں وہ تنہاہے اسکا کوئی شریک نہیں اورحضرتِ سیدنا محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں،میں اللہ عزوجل کے رب ہونے پر اور اسلا م کے دین ہونے پراور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں ۔''
(صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ، باب استحباب القول مثل قول الموذن الخ ،رقم ۳۸۶، ص ۲۰۴)
(۱۱۴)۔۔۔۔۔۔ ام المؤ منین حضرتِ سیدتنا مَیْمُونَہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مردوں اور عورتوں کی صف کے درمیان کھڑے ہوکر فرمایا،'' اے خواتین کے گروہ! جب تم اس حبشی (یعنی حضرتِ سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کی اذان اور اقامت سنوتو جیسے یہ کہے تم بھی اسی طرح کہہ لیاکرو کیونکہ تمہارے لئے ایسا کرنے میں ہر حر ف کے بدلے میں دس لاکھ نیکیاں ہیں۔''تو حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا ،''یہ فضیلت تو عورتوں کے لئے ہے مردوں کیلئے کیاہے؟ ''تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا'' اے عمر!مردوں کیلئے اس سے دگنا ثواب ہے ۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۲۸ ، ج ۲۴، ص ۱۶)
(۱۱۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ
Flag Counter