Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
64 - 736
اس شخص نے
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
 کہا تو فرمایا ،''یہ جہنم سے محفوظ ہوگیا ۔''پھر لوگ اس شخص کی طرف دوڑے تو دیکھا کہ وہ ایک چرواہا تھا جو نَماز کا وقت ہونے پر کھڑے ہو کر اذان دے رہا تھا۔
 (صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ، باب الامساک عن الا غارۃ علی قوم الخ ، رقم ۳۸۲ ص ۲۰۲)
 (۱۰۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےسرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' تمہارا رب عزوجل، پہاڑ کی چٹان پر نماز کے لئے اذان دینے اور نَماز پڑھنے والے چرواہے سے بہت خو ش ہوتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کو دیکھو میرا یہ بندہ میرے خوف سے اذان دیتا اور نَماز پڑھتا ہے، بیشک میں نے اس کی مغفرت کردی اور اسے جنت میں داخل کردیا۔''
 (سنن نسائی،کتا ب الاذان ، باب الاذان لمن یصلی وحدہ، ج ۲ ،ص۲۰)
 (۱۰۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہو ااور عرض کیاکہ ''مجھے ایسا عمل سکھائیے یا ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں پہنچادے ۔'' ارشاد فرمایا،'' مؤذن بن جاؤ۔'' اس نے عرض کیا،'' میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔'' توارشاد فرمایا،'' امام بن جاؤ۔'' اس نے عرض کیا،''میں یہ بھی نہیں کرسکتا ۔''تو فرمایا''(پھر) امام کے برابر میں کھڑے ہوا کرو۔''
    ( الترغیب والترہیب، کتاب الصلٰوۃ ، باب فی الاذان ،رقم۲۲،ج۱،ص ۱۱۲)
 (۱۰۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جو بار ہ سال تک اذان دے گا اس کے لئے جنت واجب ہوجائے گی اور اس کے اذان دینے کے بدلے میں اس کے لئے روزانہ ساٹھ نیکیاں اور ہر اقامت کے عوض تیس نیکیا ں لکھی جائیں گی ۔''
 (سنن ابن ماجہ ،کتاب الاذان والسنۃ فیھا، باب فضل الاذان ، رقم ۷۲۸، ج ۱، ص ۴۰۲)
 (۱۱۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے كہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے ثواب کی امید پر سات سال تک اذان دی، اس کے لئے دوزخ سے نجات لکھ دی جائے گی ۔''
    (سنن ابن ماجہ ،کتاب الاذان والسنۃ فیھا، باب فضل الاذان، رقم ۷۲۷، ج ۱، ص ۴۰۲)
 (۱۱۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عثمان بن ابو عاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھے جو آخری وصیت فرمائی وہ یہ تھی کہ ''مؤذن ایسے شخص کو بناؤ جو اذان دینے پراجرت نہ لے ۔''
    (سنن ترمذی ، ابواب الصلوۃ ، با ب ماجاء فی کراھیۃ ان یا خذ الموذن علی الاذان ثوابا، رقم ۲۰۹ ،ج ۱ ،ص ۲۵۲)
Flag Counter