| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' جب شیطان اذان کی آواز سنتاہے'' روحاء ''کے مقام تک دور ہٹ جا تا ہے۔'' راوی فرماتے ہیں کہ روحاء مدینہ منورہ سے ۳۶میل کے فاصلے پر ہے۔
(صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ، با ب فضل الاذان وھرب الشیطان عنہ سماعہ ،رقم ۳۸۸ ، ص ۲۰۴)
(۱۰۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جب نَماز کے لئے ندا یعنی اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اس کا حال یہ ہوتا ہے جب تک اذان کی آواز سنتاہے گوز مارتا(یعنی ریح خارج کرتا)رہتا ہے تا کہ اذان کی آواز نہ سن سکے ۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب الاذان ، باب فضل التاذین ، رقم ۶۰۸ ، ج ۱، ص ۲۲۲)
(۱۰۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' ثواب کی امید پر اذان دینے والا مؤذن اپنے خون سے لتھڑے ہو ئے شہید کی طرح ہے ،وہ اذان اور اقامت کے درمیا ن اللہ عزوجل سے اپنی پسندیدہ شے کی تمنا کرتا ہے ۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۱۳۵۵۴، ج ۱۲،ص ۳۲۲ ،بتغیر قلیل)
(۱۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جب کسی بستی میں اذان دی جاتی ہے تو اللہ عزوجل اس دن اس بستی کو اپنے عذاب سے امان عطافرما دیتا ہے ۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۷۴۶ ، ج ۱، ص ۲۵۷)
(۱۰۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس قوم میں صبح کو اذان دی جاتی ہے وہ شام تک اللہ عزوجل کی امان میں ہوتی ہے اور جس قوم میں شام کو اذان دی جاتی ہے وہ صبح تک اللہ عزوجل کی اما ن میں ہو تی ہے ۔''
(طبرانی کبیر، رقم ۴۹۸ ، ج ۲۰، ص۲۱۵)
(۱۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دورانِ سفرایک شخص کو اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ'' فطرت کے مطابق ہے۔''پھر