| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۹۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' تین شخص مشک کے ٹیلوں پر ہونگے (۱)وہ غلام جس نے اللہ عزوجل اور اپنے آقا کا حق ادا کیا (۲)وہ شخص جو کسی قوم کا امام بنے اور وہ اس سے راضی ہوں (۳)وہ شخص جو دن اور رات میں پانچ نَماز وں کے لئے اذان دیتاہے ۔
(سنن ترمذی ، کتا ب البر والعلۃ ، با ب ماجاء فی فضل المملوک الصالح، رقم ۱۹۹۳ ،ج ۳ ،ص ۳۹۷)
طبرانی کی روایت میں ہے کہ'' تین اشخاص ایسے ہونگے جنہیں بڑی گھبراہٹ یعنی قیامت دہشت زدہ نہ کرسکے گی اور حساب ان تک نہ پہنچے گا ،وہ مشک کے ٹیلے پر ہونگے یہاں تک کہ مخلوق حساب سے فارغ ہوجائے ۔
پہلا:وہ شخص جو اللہ تعالی کی رضا کے لئے قرآن پڑھے اور اس کے ذریعے کسی قوم کی امامت کرائے اور وہ قوم بھی اس سے راضی ہو ،دوسرا:وہ شخص جو اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نمازوں کے لئے اذان دے اورتیسرا: وہ غلام جس نے اپنے رب عزوجل اور اپنے آقا کا معاملہ خوش اسلوبی سے نبھایا۔''
ایک اورروایت میں ہے کہ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اگر میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سات مرتبہ(۷) نہ سنی ہو تی تو میں اسے ہرگز نہ بیان کرتا ۔ میں نے سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ''تین افراد مشک کے ٹیلوں پر ہونگے قیامت کے دن کی گھبراہٹ انہیں دہشت زدہ نہ کرے گی اور وہ اس وقت بھی پر سکون ہونگے جب لوگ دہشت زدہ ہونگے ۔پہلاوہ شخص جس نے قرآن سیکھا پھر اس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا اور انعام کا طلب گار ہوا اوردوسرا وہ شخص جو ہر دن رات میں اللہ عزوجل کی رضا اور اس کے انعامات میں رغبت کرتے ہوئے پانچوں نَمازوں کے لئے اذان دے اور تیسراوہ شخص جس کو دنیا کی غلامی اپنے رب عزوجل کی اطاعت سے نہ روکے ،اللہ عزوجل کی رضا اور اسکے انعامات میں رغبت کرتے ہوئے پانچو ں نَماز ں کے لیے اذان دے ۔''
(۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اگر میں قسم اٹھا کر کہوں تو سچ ہی کہوں گا کہ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے پسندید ہ بند ے سورج اور چاند(یعنی اوقاتِ نماز)کا خیال رکھنے والے یعنی مؤذنین ہیں اور یہ لوگ قیامت کے دن اپنی گردنوں کی لمبائی کے باعث پہچانے جائیں گے۔''(طبرانی اوسط، رقم ۴۸۰۸ ، ج ۳، ص ۳۴۸)
(۹۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن ابی اَوْفیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' بیشک اللہ عزوجل کے بندوں میں سے سے بہتر وہ ہیں جو نَمازکیلئے سورج اور چاند (یعنی اوقاتِ نماز)کی رعایت کرتے ہیں۔''
(مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ، باب فضل الاذن ، رقم ۱۸۴۰، ج ۲ ،ص ۸۳)