| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' امام ذمہ دار ہیں اور مؤذن امانت دار ہیں اے میرے رب عزوجل !آئمہ کو ہدایت عطا فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔''
(سنن ابو داؤد ، کتا ب الصلوۃ، با ب مایجب علی الموذن من تعاھد الوقت ، رقم ۵۱۷، ج ۱، ص ۲۱۸)
ابن خزیمہ کی روایت میں ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' مؤذنین امانت دا ر ہیں اور آئمہ ذمہ دار ہیں پھر تین مرتبہ دعا فرمائی کہ اے اللہ عزوجل مؤذنین کی مغفرت فرما اور آئمہ کو ہدایت عطا فرما ۔''
جبکہ ابن حبان میں ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ''امام ذمہ دار ہے اور مؤذن امانت دار ہے اللہ تعالی آئمہ کو ہدایت عطا فرمائے اور مؤذنین کو معاف فرمائے۔''
(۹۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قیامت کے دن مؤذنین لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے ہونگے ۔''(صحیح مسلم ، کتا ب الصلوۃ ، با ب فضل الاذان وھرب الشیطا ن عند سماعہ ، رقم ۳۸۷، ص ۲۰۴)
وضاحت:
لمبی گردنوں سے مرا د ایک قول کے مطابق یہ ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عمل والے لو گ مؤذنین ہونگے اور ایک قول یہ ہے کہ مؤذنین کی گردنیں حقیقۃً لمبی ہونگی کیونکہ قیامت کے دن لوگ تعداد میں کثیراور پریشان حال ہونگے کوئی پسینہ میں منہ تک ڈوبا ہوا ہو گا،کسی کا پسینہ کانوں کی لو تک پہنچتا ہوگا اور کسی کا پسینہ سر سے بلند ہوجائے گا ،جبکہ مؤذنین اس دن لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے ہونگے اور ان کے سر دیگر لوگوں سے بلند ہوں گے ۔اوروہ جنت میں داخلہ کی اجازت کے منتظرہونگے ۔
ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ان کی گردنیں لمبی نہ ہو نگی بلکہ مکان کی اونچائی کی بناء پر ان کی گردنیں لمبی نظر آئیں گی کیونکہ مؤذنین قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر کھڑے ہونگے ،جبکہ دیگر لوگ محشر کی زمین پر ہونگے جیسا کہ اگلی حدیث مبارکہ میں بیان ہوگا، اوران کا مقام ہموارہونے کی وجہ سے ان کے سر کی اونچائی یکساں ہوگی جبکہ مؤذنین کو بلند مقام سے مشرف کیا جائے گا اور یہ کوئی بعید نہیں،واللہ تعالی اعلم۔