(۹۱ )۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاك صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' بیشک اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں اور موذن کی آواز کی انتہا ء تک اس کی مغفر ت کردی جاتی ہے ، اس کی آواز جوخشک و تر چیز سنتی ہے اس کی تصدیق کرتی ہے اور اسے اپنے ساتھ نَماز پڑھنے والوں کی مثل ثواب ملتا ہے۔''
(سنن نسائی ، کتا ب الاذان ، با ب رفع الصو ت بالاذان ، ج۲ ،ص ۱۳)
وضاحت:
موذن کی آواز کی انتہاتک مغفر ت کردیئے جانے سے مراد یہ ہے کہ جیسے جیسے اس کی آواز بلند ہوتی جاتی ہے مغفرت بھی غایت تک پہنچتی جا تی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اگر موذن کے مقام سے اذان کی آوازپہنچنے کی انتہاتک موذن کے گناہ بھردیئے جائیں تو اللہ تعالی وہ گناہ بھی معاف فرمادیگا ۔ واللہ اعلم بالصواب (۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''رحمن عزوجل کا دستِ قدرت موذن کے سرپر ہوتا ہے اور بیشک موذن کی آوازکی انتہا ء تک اس کی مغفر ت کردی جاتی ہے ۔''
(طبرانی اوسط، رقم ۱۹۸۷ ،ج ۱ ،ص ۵۳۹)
(۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ہے ؟ اورپھر اِن دونوں سعادتوں کو پانے کے لئے اُنہیں قرعہ اندازی کرنا پڑے تو ضرو رکر گزریں۔''
(صحیح بخاری، کتاب الاذان ، با ب الاستھام فی الاذان ، رقم ۶۱۵ ، ج۱ ،ص ۲۲۴)
وضاحت :
لوگ جب اذان اور صف اول کے ثواب کو جان لیں گے تو ہر ایک یہی چاہے گا کہ اسے اذا ن کا موقع دیا جائے تو ایسی صورت میں نزاع ختم کرنے کے لئے قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا ، مگر افسوس!کہ لوگ ان دونوں اعمال کے ثواب اور ان کی فضیلت سے لاعلم ہیں۔ (۹۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اگر لوگ جان لیں کہ اذان میں کیا ہے ؟تو اس کے حصول کے لئے تلوار سے لڑیں ۔''
(مسند احمد، مسند ابی سَعِیْد الخُدْرِی ، رقم ۱۱۲۴۱، ج ۴ ،ص ۵۹)