ترجمۂ کنزالایمان :اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طر ف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔(پ 24،حم السجدہ: 33)
ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں ،''میرا خیال ہے کہ یہ آیت مؤذِّنین کے حق میں نازل ہوئی۔''
(۸۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد الرحمن بن ابی صَعْصَعَہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ'' میں دیکھتا ہوں کہ تم جانوروں اور جنگل میں رہنے کو پسند کرتے ہو، لہٰذا جب تم جنگل میں ہواکرو اور نَماز کے لئے اذان دو تو بلند آواز کے ساتھ اذان دیا کرو کیونکہ مؤذِّن کی آواز کو جو کوئی جن یاانسان یا دوسری چیزسنے گی وہ قیامت کے دن اس کے لئے گواہی دے گی ۔'' حضرت سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ'' میں نے یہ بات رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سنی۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب الاذان ، باب رفع الصوت با لندا ء ، رقم ۶۰۹ ، ج ۱،ص ۲۲۲)
ابن خزیمہ کی روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ بیشک میں نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' موذن کی آواز کو جو بھی درخت ، پتھر ، جن یا انسان سنے گا وہ اس کے لئے گواہی دے گا ۔''
(۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' آواز کی انتہا تک مؤذن کی مغفرت کردی جاتی ہے اور ہر خشک وترچیز اس کے لئے گواہی دے گی ۔'' ایک روایت میں یہ اضافہ ہے،'' اسے اپنے ساتھ نَماز پڑھنے والوں کے ثواب کی مثل ثواب ملے گا ۔''
(سنن ابو داؤد ، کتاب الصلوۃ، با ب رفع الصو ت بالاذان ، رقم ۵۱۵ ، ج ۱ ،ص۲۱۸)
(۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''آواز کی انتہاء تک موذن کی مغفر ت کردی جاتی ہے اور اس کے لئے ہر خشک و