| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۶۷)۔۔۔۔۔۔ ام المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا '' مسواک میں منہ کی پاکیزگی اور رب عزوجل کی رضا ہے۔' 'طبرانی شریف کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ''اورآنکھوں کی جلاء یعنی زندگی ہے۔''
(سنن نسائی ، کتاب الطہارۃ ، باب السواک اذا قام من اللیل،ج ۱ ،ص ۱۰)
(۶۸)۔۔۔۔۔۔ حضر ت ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''مسواک کیا کروکیونکہ مسواک میں منہ کی پاکیزگی اوررب عزوجل کی رضاہے، جب بھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی وصیت کی یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مجھ پر اور میری امت پر فرض نہ ہوجائے اور اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتومیں ان پر مسواک کرنا فرض کردیتا اور بے شک میں اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں اپنے اگلے دانت زائل نہ کرلوں۔ ''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الطہارۃ، باب السواک ، رقم۲۸۹ ، ج ۱، ص۱۸۶)
(۶۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''بلاشبہ مجھے مسواک کا اس قدر حکم دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہیں مسواک کے بارے میں میری طرف وحی نہ آجائے ۔''
(مسند احمد، مسند عبداللہ بن العبا س ، رقم۲۷۹۹ ،ج ۱، ص ۶۵۸)
(۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتو میں انہیں ہر نما ز سے پہلے مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔''جبکہ ایک روایت میں ہے کہ'' میں انہیں ہر نَماز کے وقت وضو کے ساتھ مسواک کرنے کاحکم دیتا۔''
(صحیح بخاری، کتاب الجمعہ ، باب السواک یوم الجمعۃ ، رقم۸۸۷ ، ج ۱، ص ۳۰۷)
(۷۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مسواک کرنے کا حکم دیا اورفرمایاکہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا'' بندہ جب مسواک کرتاہے پھر نَماز کے لئے کھڑا ہوتاہے تو اس کے پیچھے ایک فرشتہ بھی کھڑا ہوجاتاہے اوراس کی قراء ت کو غور سے سنتا ہے اور جب بھی وہ کوئی آیت یا کلمہ پڑھتا ہے تو فرشتہ اس سے قریب ہو جاتاہے یہاں تک کہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیتاہے تو اس کے