| جنت میں لے جانے والے اعمال |
میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اتنی باتیں سنی ہیں جنھیں میں شمار نہیں کرسکتا۔''
(مسند احمد ، حدیث امام ابی اُمَامَہ الباہلی ،رقم ۲۲۳۳۰،۲۲۳۳۵ ،ج ۵، ص ۲۹۸)
(۵۷)۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ'' نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا جو احسن طریقے سے وضو کرتاہے اس کے جسم سے گناہ جھڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی۔''
ایک روایت میں ہے کہ حضرتِ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کیا پھر فرمایاکہ'' میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا جیسے میں نے وضو کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' جو اس طرح وضو کرتاہے اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور اس کا نَماز پڑھنا اور مسجد کی طرف چلنا نفل شمار ہوتاہے۔''
اور مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ،''جوآدمی ا حسن طریقے سے وضو کرے پھر نَماز پڑھے تواُس کی اِس نَماز اورسابقہ نَماز کے درمیان ہونے والے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔''
نسائی شریف کے الفاظ یوں ہیں،'' جوشخص کامل وضو کرے جیساکہ اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے تو اس کی نَمازیں بیچ کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں ۔''(نسائی ، کتاب الطہارۃ ، با ب ثواب من توضاء، رقم ۲۴۴،ج۱، ص ۹۰)
(۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حسن بن حُمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرتِ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سرد 'رات میں سفر کا ارادہ کیا اور وضو کیلئے پانی منگوایا ۔میں ان کے لئے پانی لے کر حاضر ہو ا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ۔ (یہ دیکھ کر ) میں نے عرض کیا،'' بس اتنا ہی کا فی ہے کیونکہ آج رات بہت سردی ہے۔'' تو آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ'' میں نے نبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ'' جو بندہ کامل وضوکریگااس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ ''
(مسند بزار ، رقم ۴۲۲، ج۲ ،ص ۷۵)
(۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی حدیث ِجبرائیل علیہ السلام میں ہے کہ جب خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے اسلام کے بارے میں سوال کیاگیا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں اور نَماز پڑھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور حج وعمرہ کرو اور جنابت سے غسل کرو اور کامل وضو کرو اور رمضان کا روزہ رکھو ۔''توحضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا، ''جب میں یہ اعمال بجالاؤں تو کیامیں مسلمان