Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
50 - 736
(۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ صُنَابِحِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''جب بندہ وضو کرتے ہوئے کلی کر تا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں ،جب ناک میں پانی ڈالتاہے توناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب چہرہ دھوتاہے تواس کے چہرے سے گناہ جھڑجاتے ہیں ، یہاں تک کہ ا سکی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے کے گناہ بھی جھڑجاتے ہیں اور جب وہ دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے گناہ جھڑجاتے ہیں حتی کہ اس کے ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتاہے تو اس کے سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے کانوں کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں، پھرجب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے گناہ جھڑجاتے ہیں حتیٰ کہ پاؤں کے ناخنوں کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں ،پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز پڑھنا مزید برآں (یعنی اس کے علاوہ عبادت) ہے ۔''
   (سنن نسائی، کتا ب الطہارۃ ، با ب مسح الاذنین مع الرأس ، رقم۔۔۔۔۔۔، ج ۱، ص ۷۴)
(۵۵)۔۔۔۔۔۔ مسلم شریف کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ'' پھراگر وہ کھڑاہو اور نَماز پڑھے اس کے بعد اللہ عزوجل کی حمد وثناء کرے اور اللہ عزوجل کی شان کے لائق بزرگی بیان کرے اور اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد کے لئے فارغ کرے تو اپنے گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوکر لوٹے گا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیداہوا ہو۔''
( مسلم ،کتاب صلوۃ المسافرین ،باب اسلام عمرو بن عبسہ ،ص ۴۱۴)
(۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''جو شخص نماز کا ارادہ کرتے ہوئے وضو کرنے کیلئے آتاہے پھراپنے دونوں ہاتھ دھوتاہے توپہلا قطرہ پڑتے ہی اس کی ہتھیلیوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جب وہ کلی کرتاہے اور ناک میں پانی چڑھا تاہے اور ناک صاف کرتاہے تو پہلاقطرہ ٹپکتے ہی اس کی زبان اور ہو نٹوں کے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا منہ دھوتاہے تو اس کی آنکھ اور کان کے تمام گناہ پہلا قطرہ پڑتے ہی جھڑ جاتے ہیں اور جب وہ كہنیوں سمیت ہاتھ اور ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتاہے تو ہرگناہ سے سلامتی(یعنی پاکی)حاصل کرلیتاہے اور اس حال میں نکلتاہے جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا،پھر جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اسکا درجہ بلند فرما دیتاہے اور اگر بیٹھ جائے تو سلامتی کے ساتھ بیٹھتاہے۔ ''

    اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ'' جس نے کامل طریقے سے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا اور کا نوں کا مسح کیا پھر فرض نَماز کے لئے کھڑا ہوا تواس کے قدم اس دن میں جس برائی کی طرف چلے اوراس کے ہاتھوں نے جسے پکڑا اور اس کے کانوں نے جو سنا ،اس کی آنکھوں نے جو دیکھا اور جو اس نے برُی گفتگو کی سب معاف کردئیے جائیں گے ۔'' پھر حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ'' اللہ عزوجل کی قسم!
Flag Counter