| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۳۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس پر محتاجی نازل ہو پھر وہ لوگوں سے سوال کرنے لگے تو اس کی محتاجی ختم نہیں ہوگی اور جس پر محتاجی طاری ہو اور وہ اللہ عزوجل سے سوال کرے تو قریب ہے کہ اللہ عزوجل اسے جلد یا بدیر رزق عطافرمائے ۔''
(ترمذی، کتا ب الزھد، باب ماجاء فی ھم الدنیا وحبھا، رقم ۲۳۳۳ ،ج۴، ص ۱۴۶)
(۱۳۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے فرمایا ،'' اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنے کو اپنے آپ پر حرام کردیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کردیا ہے لہذاایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہومگر جسے میں نے ہدایت دی تو مجھ سے ہدایت چاہو میں تمہیں ہدایت دونگا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو مگر جسے میں نے کھلایا تو مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو ! تم سب بے لباس ہو مگر جسے میں نے کپڑے پہنائے تو مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس عطافرماؤں گا ۔اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہواور میں تمام گناہوں کو بخش دیتاہوں تو مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو!تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم میرے نفع تک بھی نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نفع پہنچاسکو۔اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے اور تمہارے انس وجن تم میں سے کسی ایک متقی پر ہیز گار کی طر ح ہوجائیں تو بھی میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا ۔اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے تمہارے انس وجن تم میں سب سے زیادہ گناہ گارشخص کی طر ح فا جر ہوجائیں تو بھی میرے مُلک میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔ اے میرے بند و! اگر تمہارے اگلے پچھلے انس وجن کسی ایک مکان میں یکجا ہوکر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورافرمادوں تو بھی میرے خزانے میں کچھ کمی نہ آئے گی مگر اتنی کہ جیسے کسی سوئی کوسمندر میں ڈال دیا جائے تو وہ جتنی کمی کرتی ہے۔ اے میرے بندو ! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں شمار کرتا ہوں پھر تمہیں ان کا پورا اجر عطا فرماؤں گا لہذا جوبھلائی پائے تو وہ اللہ عزوجل کاشکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔''
حضرتِ سیدنا سَعِیْد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ'' حضرتِ سیدنا ابو ادریس خولانی رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث مبارک سناتے تو گھٹنوں کے بل کھڑے ہوجایاکرتے تھے۔''(صحیح مسلم ،کتاب البر ...الخ ،باب تحریم الظلم ،رقم ۲۵۷۷ ، ص ۱۳۹۳)