| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۳۷۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' بیشک اللہ عزوجل حیّ اورکریم ہے یعنی وہ اس بات سے حیا فرماتاہے کہ کوئی بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے اور وہ اسے خالی لوٹادے ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب الدعوات ،باب (۱۱۹) ،رقم ۳۵۶۷ ، ج ۵ ،ص ۳۲۶)
(۱۳۷۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' بیشک اللہ عزوجل رحیم اور کریم ہے اور اپنے بندے سے حیا فرماتاہے کہ وہ اس کی بارگا ہ میں ہاتھ اٹھائے تو اللہ عزوجل ان ہاتھوں میں کوئی بھلائی نہ رکھے ۔''
(مستدرک، کتاب الدعاء، باب ان اللہ عزوجل حی کریم یستحی من عبدہ رقم ۱۸۷۵ ،ج۲، ص ۱۷۰)
(۱۳۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' جو مسلمان اللہ عزوجل سے کسی سوال کے لئے اپنا چہرہ بلند کرتاہے تو اللہ عزوجل اسے وہ چیز عطافرمادیتا ہے یا تو جلد ہی اسے وہ چیز دے دی جاتی ہے یا پھر اس کے لئے ذخیرہ کردی جاتی ہے ۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ ،رقم ۹۷۹۲، ج۳، ص ۴۵۸)
(۱۳۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' سطح زمین پر جو مسلمان اللہ عزوجل سے کوئی دعا مانگتاہے تو اللہ عزوجل اس کی وہ مراد پوری فرمادیتاہے یا اس سے اسی کی مثل کوئی برائی ہٹادیتاہے جب تک بندہ کسی گناہ یا قطع رحمی کے بارے میں دعا نہ مانگے۔''تو حاضر ین میں سے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا ،'' پھر تو ہم بہت زیاد ہ دعائیں مانگا کریں گے۔'' تو ارشا دفرمایا،'' اللہ عزوجل بہت زیادہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔''
(ترمذی، کتا ب احادیث شتی ، باب فی انتظار الفر ج، رقم ۳۵۸۴ ،ج۵، ص ۳۳۴)
(۱۳۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو مسلمان کوئی ایسی دعا مانگتا ہے جس میں کوئی گناہ یا قطع رحمی نہ ہوتو اللہ عزوجل اسے تین میں سے ایک خصلت عطافرماتاہے،(۱)یا تو اس کی دعا جلد قبول کرلی جاتی ہے (۲)یا اسے آخرت کے لئے ذخیرہ کردیا جاتاہے (۳)یا پھر اس سے اسی کی مثل کوئی برائی دور کردی جاتی ہے۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ،''پھر تو ہم بہت زیادہ دعائیں مانگا کریں گے ۔''تو فرمایا ،''اللہ عزوجل زیادہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی سعید خدری، رقم ۱۱۱۳۳، ج۴، ص ۳۷)