| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۳۶۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' دعاعبادت کا مغز ہے۔''
( جامع ترمذی ،کتا ب الدعوات، باب ماجاء فی فضل الدعاء، رقم ۳۳۸۲ ،ج ۵، ص ۲۴۳)
(۱۳۶۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے اور بیشک بندہ گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم کردیاجاتا ہے۔''
(التر غیب والترہیب ،کتاب الذکر والدعاء ، باب الترغیب فی کثرۃ الدعاء ..الخ ،رقم ۱۷،ج۲ ،ص۳۱۶)
(۱۳۶۹)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا ، ''احتیاط تقدیر سے بے نیاز نہیں کرتی اور دعا نازل شدہ اورغیرنازل شدہ آفات سے نفع دیتی ہے او ر جب کوئی آفت نازل ہوتی ہے تواس کا سامنادعا سے ہوتاہے اور دونوں قیامت تک لڑتی رہتی ہیں۔''
(مستدرک ، کتاب الدعا ء،باب الدعا ء ینفع مما نزل ،رقم ۱۸۵۶، ج۲، ص ۱۶۲)
(۱۳۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' دعاتقدیر کو ٹال دیتی ہے اورنیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔''
(ترمذی ،کتا ب القدر ،با ب ماجاء لایرد القدرالا الدعا، رقم ۲۱۴۶، ج۴، ص ۵۴)
(۱۳۷۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو کیونکہ اللہ عزوجل اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگاجائے اورخوشحالی کا انتظارکرنا سب سے افضل عبادت ہے ۔''
(ترمذی ،کتاب الدعوات، باب فی انتظار الفرج وغیر ذالک، رقم ۳۵۸۲، ج۵، ص ۳۳۳)
(۱۳۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''تم میں سے جس کے لئے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا اس کیلئے رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے اور اللہ عزوجل سے عافیت کے سوال سے زیادہ پسندیدہ کسی چیز کا سوال نہیں کیا گیا اور بیشک دعا نازل شدہ اور نازل نہ ہونے والی آفتوں سے نفع دیتی ہے تواے اللہ عزوجل کے بندو! دعاکو اپنے اوپر لازم کرلو۔''
(ترمذی ،کتا ب الدعوات، رقم۳۵۵۹ ،ج۵، ص۳۲۲)