(۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''ہر عمل کاایک جو ش اورہر جوش کی ایک انتہا ہے تو جس کی انتہامیری سنت پر ہوگی وہ ہدا یت یافتہ ہوگا اور جس کی انتہا میری سنت کے خلاف ہوگی وہ ہلاکت میں مبتلا ہوگا ۔''
(المسند الامام احمدبن حنبل ، رقم ۶۹۷۶، ج ۲، ص ۶۶۱ )
(۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عَمْرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک دن حضرتِ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، ''اے بلال! جان لو۔''انہوں نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! کیا جان لوں؟ ''فرمایا ''جان لو کہ جس نے میری سنتوں میں سے ایک مردہ سنت کو زندہ کیا،اسے اس سنت پر عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے ایسی بد عت ایجاد کی جس سے اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہیں تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کے برا بر گنا ہ ملے گا اور ان عمل کرنے والو ں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔ ''
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب السنۃ ، با ب من احیاء سنۃ قدا میتت ، رقم ۲۱۰ ، ج ۱، ص ۱۳۸)