| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جس نے حلال کھا یا اور سنت کے مطابق عمل کیا اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہے تووہ جنت میں داخل ہوگا۔'' صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! ایسے لوگ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں بہت ہیں۔'' تونبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' عنقریب میرے بعد ایک قوم میں ہوں گے۔''
(المستد رک للحاکم ، کتا ب الاطعمۃ ، ذکر معیشۃ النبی ،رقم ۷۱۵۵، ج ۵ ص ۱۴۲)
(۴۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو شُرَیْح خُزَاعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے ہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ'' کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں ؟''ہم نے عرض کیا،'' کیوں نہیں ۔''تو فرمایا کہ'' بیشک اس قرآن کا ایک کنارہ اللہ عزوجل کے دست قدرت میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھو ں میں ہے، لہٰذااسے مضبوطی سے تھا م لو کہ اس کے بعد تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے اورنہ ہی ہلاک ہو گے۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۴۹۱ ، ج ۲۲ ،ص ۱۸۸)
(۴۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عِرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں چند نصیحتیں فرمائیں جن سے ہمارے دل تڑپ اٹھے اور آنکھیں بہہ پڑیں تو ہم نے عرض کیا کہ'' یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یہ رخصت ہونے والے کی نصیحت لگتی ہے ،لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کچھ وصیت فرمائیں ۔''
سرکا رِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرنے کی اور امیر کی بات سن کراس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتاہوں اگرچہ کسی غلام کو تمہارا امیر بنادیا جائے اور تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ عنقریب بہت سے اختلاف دیکھے گا تو اس وقت میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لاز م پکڑنا اور اسے دانتوں سے پکڑلینا اور نوپیداُمور سے بچتے رہنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔''(جامع ترمذی ، با ب ماجاء فی الاخذ بالسنۃ ، رقم۲۶۸۵، ج ۴، ص ۳۵۸)
وضاحت:
دانتوں سے پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ سنت کو اس طرح لازم پکڑنا اور اس میں ایسی رغبت رکھنا جیسے دانتوں سے کسی