Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
479 - 736
ہے نیکی کرنے کی قوت اور برائی سے بچنے کی طاقت اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہے)کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتاہے
 لَااِلٰہَ اِلَّااَنَا وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَاِلَّابِی
(ترجمہ:میں ہی معبود ہوں اور نیکی کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت میری ہی طرف سے ہے)۔ 

    آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو اس دعا کو حالت مرض میں پڑھے پھر مرجائے اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی۔''
(ترمذی ،کتا ب الدعوات، باب مایقول االعبداذا مرض ،رقم ۳۴۴۱ ،ج۵، ص ۲۷۱)
(۱۳۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ   سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''اے ابو ہر یر ہ! کیا میں تمہیں ایک سچی با ت نہ بتاؤں، جو اسے اپنی بیماری کی ابتدا ء میں پہلی مرتبہ سوتے وقت پڑھے گا اللہ عزوجل اسے جہنم سے نجات عطا فرمائے گا ۔''میں نے عر ض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ما ں باپ آپ پر قربا ن! ضروربتا یئے۔'' فرمایا،'' جب تم صبح کرو تو شام سے پہلے اور شا م کر و تو صبح سے پہلے اپنے مر ض کی ابتدا ء میں پہلی مرتبہ سوتے وقت یہ کلمات پڑھو گے تو اللہ عزوجل تمہیں جہنم سے نجات عطا فرمائے گا
،'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَحَیٌّ لَّایَمُوْتُ وَسُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعِبَادِوَالْبِلاَدِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ اَللہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا کَبَّرْنَارَبَّنَاوَجَلَا لَہٗ وَقُدْ رَتَہ، بِکُلِّ مَکَانِ اَللّٰھُمَّ۔ اَنْتَ اَمْرَضْتَنِیْ لِتَقْبِضَ رُوْحِیْ فِیْ مَرَضِیْ ھٰذَا فَا جْعَلْ رُوْحِیْ فِیْ اَرْوَاحِ مَنْ سَبَقَتْ لَہٗ مِنْکَ الْحُسْنٰی وَاَعِذْنِیْ مِنَ النَّارِکَمَا اَعَذْتَ اَوْلِیَائَکَ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِنْکَ الْحُسْنٰی
ترجمہ : اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جِلاتا اور مارتا ہے اور وہ زندہ ہے، کبھی نہ مرے گا اور اللہ عزوجل پاک ہے جوکہ تمام بندوں اور شہروں کا پروردگارہے اور اللہ عزوجل کے لئے ہر حال میں پاکیزہ ، کثیراور برکت والی خوبیاں ہیں اللہ عزوجل بہت بڑا ہے ہم اپنے رب عزوجل، اسکے جلال اور قدرت کی ہر جگہ بڑا ئی بیان کرتے ہیں ،اے اللہ عزوجل ! تو نے مجھے اس مرض میں میری رو ح قبض کرنے کے لئے مبتلا فرمایا ہے لہذا میری رو ح کو ان رو حو ں میں شامل فرما جن کے لئے تیری طر ف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے اور مجھے اسی طر ح جہنم سے پنا ہ دے جیسے تو نے اپنے ان اولیاء کو پناہ دی جن کے لئے تیری بارگاہ سے پہلے ہی بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔''

     پھر اگر تمہارااس مر ض میں انتقال ہو گیا تو تمہاراٹھکانہ اللہ عزوجل کی رضا اور جنت میں ہوگا اوراگر تم نے بہت سارے گناہ کیے ہوں تو اللہ عزوجل تمہاری تو بہ قبول فرمائے گا۔ ''
(التر غیب والترہیب ،کتاب الجنائز ،باب الترغیب فی کلمات ...الخ، رقم ۵ ،ج۴ ،ص ۱۶۸)
(۱۳۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
'' لاَ اِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَا نَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ
Flag Counter