ایک مرتبہ کہااورنیچے ہوکر مسکرائے پھر میری جانب متوجہ ہوکر فرمایا،'' جو شخص اپنی سواری پر سوار ہوتے وقت اسی طر ح کرے جیسے میں نے کیا تو اللہ عزوجل اسکی طر ف نظر رحمت فرمائے گا اور اس سے خو ش ہوگا ۔''
(المسند للامام احمدبن حنبل ، مسند عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، رقم ۳۰۵۸ ، ج۱، ص ۷۰۷)
(۱۳۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو شہہ سوار سفر کے دورا ن اللہ عزوجل اوراسکے ذکر میں مشغول ہوتاہے تو ایک فرشتہ مسلسل اس کے ساتھ شریک سفر ہوتا ہے اور جو اس کے برعکس ہوتاہے اسکا ردیف شیطا ن ہوتا ہے ۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الاذکار، با ب مایقول اذا رکب دابۃ، رقم ۱۷۰۹۶ ،ج۱۰، ص ۱۸۵)