| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۳۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے نماز کے بعد آیۃ الکر سی پڑھی اسے موت کے علا وہ جنت میں داخلہ سے کوئی چیز نہیں روک سکتی ۔ ''ایک روایت میں قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ پڑھنے کا بھی ذکر ہے ۔
(طبرانی کبیر ، رقم ۷۵۳۲ ،ج۸، ص ۱۱۴)
(۱۳۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ سلم نے فرمایا ، ''جس نے فر ض نمازکے بعد آیۃ الکر سی پڑھی وہ بندہ اگلی نما ز تک اللہ عزوجل کے ذمہ کرم پرہے ۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الاذکار ،با ب ماجاء فی الاذکار عقب الصلوۃ، رقم ۱۶۹۲۴، ج۱۰، ص ۱۲۸)
(۱۳۲۶)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا کعب بن عُجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''فر ض نما ز کے بعد پڑھے جانے والے کچھ کلمات ایسے ہیں جن کو ہرنما ز کے بعد پڑھنے والا محروم نہیں ہوتا سُبْحَا نَ اللہِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تینتیس مرتبہ اَللہُ اَکْبَرُ چو نتیس مرتبہ۔''
(مسلم ،کتا ب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوۃ، رقم ۵۹۶، ج۱، ص ۳۰۱)
(۱۳۲۷)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہا جر ین فقرا ء شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حا ضر ہو ئے اور عرض کیا،'' ما لدار لوگ بلند درجا ت اور باقی رہنے والی نعمتیں لے گئے۔''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' وہ کیسے ؟'' عر ض کیا ،''وہ ہما ری طر ح نما ز پڑھتے ہیں اور ہماری طر ح روزے رکھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں ،ہم صدقہ نہیں کرسکتے اور وہ غلا م آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم غلام آزاد نہیں کرسکتے ۔''تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ''کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھا ؤں جس کے ذریعے تم اگلوں اور پچھلوں پر سبقت لے جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ ہو سکے مگر جو تمہا ری مثل کرے ۔''عر ض کیا،'' یا رسول اللہ !صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرو ر سکھا یئے۔'' فرمایا،'' ہر نما ز کے بعد سُبْحَا نَ اللہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور اَللہُ اَکْبَرُ تینتیس مرتبہ پڑھ لیا کر و۔''
حضرتِ سیدنا ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ'' پھر فقر اء مہا جر ین دوبارہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حا ضر ہوئے اور عر ض کیا کہ'' ہمارے ما لدار بھائیو ں نے بھی وہ سن لیاہے جو ہم کرتے ہیں تو وہ بھی اسی کی مثل کرنے لگے ہیں ۔