| جنت میں لے جانے والے اعمال |
پہنچاتے ہیں اور علم کے حامل کچھ افراد فقیہ نہیں ہوتے ۔تین عمل ایسے ہیں کہ مومن کا دل ان میں خیانت نہیں کرتا (۱)خالص اللہ عزوجل کے لئے عمل کرنا (۲)حکمرانوں کی خیر خواہی اور(۳)ان کی جماعت کو لازم پکڑناکیونکہ ان حکمرانوں کودین کی دعوت دینا ان کے ماتحت لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتاہے اور جس کا مقصد دنیا کمانا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے کا م کومتفرق یعنی جدا جدا کردے گا اور اس کے فقر کو اس کے سامنے کردے گا اور اسے دنیا سے وہی ملے گا جو اس کے لئے لکھا گیاہوگااور جس کا مطلوب آخرت ہوگی اللہ تعالیٰ اسے اس کا مطلوب عطا فرمادے گا اور اس کے دل کو غناسے بھر دے گا اور دنیاذلیل ہوکراس کے پاس آئے گی۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن ،کتا ب الرقائق ، با ب الفقر ، رقم ۶۷۹، ج ۲، ص ۳۵)
(۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو رُدَیْن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''جوقوم اجتماعی طور پر کتاب اللہ کی تکرار کرتی ہے وہ اللہ عزوجل کی مہمان ہوتی ہے اور ملائکہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں یاکسی دوسری بات میں مصروف ہوجائیں اورجو عالم موت ، کثرتِ مصروفیت یا علم کے ناپید ہوجانے کے خوف سے علم کی طلب میں نکلے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں دن رات آمدورفت رکھنے والے کی طرح ہے اور جس کاعمل اسے سست کردے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔''
حضرتِ سیدنا عبداللہ بن امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھاکہ'' میں رات کو تہجد پڑھوں یا علم لکھوں؟ '' توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ'' علم لکھاکرو۔''(طبرانی کبیر ، رقم ۸۴۴ ، ج ۲۲ ،ص ۳۳۷)
وضاحت :
امام صاحب علیہ الرحمۃ نے اپنے صاحبزادے کو علم لکھنے کا مشورہ اس لئے دیا کہ علم کا نفع دوسروں کو بھی حاصل ہوگا اورانہیں اپنے علم کے ثواب کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا ثواب بھی ملے گا جو اس علم سے ان کی زندگی میں یا موت کے بعداستفادہ کریں گے جبکہ تہجد پڑھنے کی صورت میں انہیں صرف اپنا ثواب ہی حاصل ہوسکے گا، واللہ تعالی اعلم۔