اس دن تم ہی عمل کے اعتبار سے سب سے افضل ہوگے مگر جو تمہاری مثل کہے اور
سُبْحَا نَ اللہِ وَالْحَمْدلِلّٰہُ وَلاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
کثرت سے کہا کرو کیو نکہ یہ سید الاستغفا ر ہیں اور گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔''راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی ارشا د فرمایا کہ''یہ کلمات جنت کو واجب کرنے والے ہیں۔''
(مجمع الزوائد، کتا ب الاذکار، باب ماجاء فی الباقیات الصالحات، رقم ۱۶۸۴۲، ج ۱۰، ص ۱۰۰)
(۱۲۵۵)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدتنا سلمی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی ،''یا رسول اللہ ! مجھے کچھ کلمات سکھا ئیے جوزیادہ نہ ہوں۔'' فرمایا،'' دس مرتبہ
سُبْحَا نَ اللہِ اَللہُ اَکْبَرُ
کہو تو اللہ عزوجل فرمائے گا ،''یہ میرے لئے ہے۔'' اور دس مرتبہ
کہوتو اللہ عزوجل فرمائے گا :''یہ میرے لئے ہے ۔''اور
کہو تو اللہ عزوجل فرمائے گا ،''میں نے تمہاری مغفر ت فرمادی۔'' پھر جب تم دس مرتبہ یہی کلمات دہراؤگی تو اللہ عزوجل فرمائے گا:''میں نے تیری عرض قبول فرمالی۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الاذکار ، باب ماجاء فی الباقیات الصالحات ،رقم ۱۶۸۶۸، ج۱۰ ،ص ۱۰۹)
(۱۲۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدتنا ام سُلَیْم رضی اللہ عنہا ایک صبح رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی با رگا ہ میں حاضرہرکر عر ض گزارہوئیں،''مجھے ایسے کلمات سکھا ئیے جنہیں میں اپنی نماز میں پڑھا کروں۔'' فرمایا،'
،'' اَللہُ اَکْبَرُ، سُبْحَا نَ اللہِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
دس دس مرتبہ کہا کروپھر جو چا ہودعا ما نگو تو اللہ عزوجل فرمائے گا:'' ہا ں! ہاں!(یعنی میں تمہاری دعاقبول فرماؤں گا) ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان،صلٰوۃالاستسقاء ،فصل فی القنوت، رقم ۲۰۰۸ ج ۳ ص ۲۳۰)
(۱۲۵۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سعد بن ابی وقا ص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ''میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے گھر میں داخل ہوا۔ اسکے سامنے کھجو ر کی گٹھلیا ں یا کنکر یاں رکھی ہوئی تھیں جن پر وہ تسبیح شمار کر رہی تھی ۔'' فرمایا، ''میں تجھے اس سے آسان یا افضل عمل بتا تا ہو ں ۔''پھر ارشاد فرمایا
''سُبْحَانَ اللہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِی السَّمَاء، سُبْحَا نَ