| جنت میں لے جانے والے اعمال |
آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے دعافرمائی اس کے بعد پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اقد س رکھا اور سو گئے۔پھر ہنستے ہوئے بیدا ر ہوئے ، میں نے عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس چیز نے آپ کو ہنسا یا ؟''فرمایا ، ''میری امت کے راہ خدا عزوجل میں جہاد کرنے والے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے (جیسا کہ پہلی مرتبہ فرمایاتھا)''انہوں نے عرض کیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ عزوجل سے میرے لئے دعاکیجئے کہ اللہ عزوجل مجھے ان میں شامل فرمادے۔''فرمایا،'' تم پہلے والوں میں سے ہو۔''پھر سیدتناام حرام رضی اللہ عنہا حضرتِ سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں سمندر کے سفر پر سوار ہو کر نکلیں اورسمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر کرانتقال کرگئیں۔''
( صحیح بخاری ،کتا ب الجہادوالسیر،با ب الدعاء بالجہاد والشھادۃ اللرجال والنساء ،رقم ۲۷۸۸،ج۲، ص ۲۵۰)
(۹۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں سمندر میں ایک مرتبہ جہادکیا اور اللہ عزوجل خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کرتاہے تو اس نے اللہ عزوجل کی اطاعت کاحق ادا کردیا اور جنت کی بھر پورطلب کی اور جہنم سے ہرطرح سے دور ہوگیا ۔''
( المعجم الاوسط ،من اسمہ ابراھیم ، رقم ۲۹۶۴، ج ۲ ، ص ۸۵)
(۹۴۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا واثلہ بن اَ سقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو میرے ساتھ جہاد کرنے سے رہ گیا اسے چاہیے کہ سمندرمیں جہاد کرے۔''
(المعجم الاوسط ، من اسمہ موسی ،رقم ۸۳۵۲، ج۶ ، ص ۱۵۸)
(۹۴۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''سمندر میں شہید ہونے والا خشکی کے دو شہیدوں کی مثل ہے اور سمندر میں چکراکر گرنے والا خشکی میں اپنے خون سے لتھڑے ہوئے شخص کی طرح ہے اور موجوں کے درمیان جہادکرنے والا اللہ عزوجل کی فرمانبرداری میں پوری دنیاطے کرنے والے کی طرح ہے اور اللہ عزوجل نے ملک الموت علیہ السلام کو روحیں قبض کرنے پر مقرر کیا ہے مگر سمندرمیں شہید ہونے والوں کی روحیں اللہ عزوجل خودقبض فرماتاہے اور خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جبکہ سمندر میں شہید ہونے والے کے قرض سمیت تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔''
(ابن ماجہ ،کتا ب الجہاد ،باب فضل غزو البحر ،رقم ۲۷۷۸، ج۳، ص ۳۴۸)
سُبْحَا نَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ کہنے کا ثواب
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ،
اَلْمَالُ وَ الْبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ اَمَلًا ﴿46﴾
ترجمہ کنزالایمان :مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگار ہے اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمہارے رب کے یہا ں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی۔ (پ 15 ،الکہف : 46) (۱۲۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''با قیا ت صالحا ت (یعنی باقی رہنے والی اچھی باتوں)کی کثر ت کیا کر و۔'' عر ض کی گئی،'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیاہیں؟'' فرمایا، '
'اَللہُ اَکْبَرُ، لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ، سُبْحَانَ اللہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور لَاحَوْ لَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ،کتا ب الرقائق ،با ب الاذکار ،رقم ۸۳۷، ج ۲، ص ۱۰۲)
(۱۲۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،
''سُبْحَا نَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا
بِاللہ پڑھا کرو کیو نکہ یہ با قیات صالحا ت (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں)ہیں اور گناہوں کو اس طر ح جھاڑدیتی ہیں جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑ تا ہے اور یہ جنت کے خزانو ں میں سے ہیں ۔ ''
(مجمع الزوائد، کتا ب الاذکار، باب ماجاء فی الباقیات الصالحات ،رقم ۱۶۸۵۵ ،ج۱۰، ص ۱۰۴)
(۱۲۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو شخص زمین پر
لَااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
کہتا ہے تو اسکے گنا ہ مٹا دیئے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھا گ کے برا بر ہوں ۔''ایک رو ایت میں
سُبْحَا نَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
کہنے کا بھی ذکر ہے ۔''
(المستدرک، کتا ب الدعاء والتکبیر ، باب افضل الذکر لا الہ الا اللہ الخ،رقم ۱۸۹۶، ج۲ ،ص ۱۷۹)
(۱۲۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو شخص
سُبْحَا نَ اللہِ وَالْحَمْدلِلّٰہِ وَلاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَلَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ