مَا عَدَ دَ فِی السَّمَاءِ اور مَاعَدَدَ فِی الْاَرْضِ وغیر ھما
(ابو داؤد ،کتاب الوتر ، باب التسبیح بالحصی ،رقم ۱۵۰،ج ۲ ،ص ۱۱۵)
(۱۲۵۸)۔۔۔۔۔۔ ام المو منین سید تنا جویر یہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم صبح فجر کی نما ز کے وقت میرے پاس سے تشریف لے گئے اور چاشت کی نماز ادا فرمانے کے بعد تشر یف لائے تو میں اسی جگہ بیٹھی ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے دریافت فرمایا،'' تم اس وقت سے اسی حا لت میں بیٹھی ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا ؟ ''میں نے عر ض کیا،'' جی ہا ں!'' تو فرمایا،'' میں نے یہاں سے جانے کے بعد چا ر کلمات تین تین مرتبہ پڑھے ہیں،اگر انہیں تمہارے آج کے تمام اذکار کے ساتھ تو لاجائے تو میرے کلمات زیا دہ وزنی ہونگے، وہ کلمات یہ ہیں''
سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِ ہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہٖ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ
ترجمہ:اللہ تعالی کی پاکی اور حمد ہے اس کی مخلوق کے عد د ، اسکی رضا ، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔
ایک روایت میں یہ کلمات بیا ن کئے گئے ہیں
''سُبْحَانَ اللہِ عَدَ دَ خَلْقِہٖ وَسُبْحَانَ اللہِ رِضَا نَفْسِہٖ، سُبْحَانَ اللہِ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ ، سُبْحَانَ اللہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہٖ
ترجمہ: اللہ کی مخلوق کے برابر اللہ کی پاکی ہے اور اس کی رضا کے برابر اس کی پاکی ہے اور اللہ کی پاکی اس کے عرش کے وزن کے برابر ہے ، اللہ کے کلمات کی روشنائی جتنی اس کی پاکی ہے۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء ، باب تسبیح اول النھار ،رقم ۲۴۲۶، ص۱۴۵۹)
جبکہ ترمذی شریف کی روایت میں یہ کلمات یو ں بیا ن کئے گئے ہیں، '
'سُبْحَانَ اللہِ عَدَ دَ خَلْقِہٖ،سُبْحَانَ اللہِ عَدَ دَ خَلْقِہٖ،سُبْحَانَ اللہِ عَدَدَ خَلْقِہٖ
ترجمہ:اللہ کی مخلوق کے برابر اس کی پاکی ہے ، اللہ کی پاکی اسکی مخلوق کے عدد کے برابر ہے ، اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کے برابر ہے ۔'' اسی طر ح دیگر کلمات بھی تین تین مرتبہ ذکر کئے ہیں ۔
(۱۲۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے اپنے ہو نٹ ہلا تے ہوئے دیکھا تو فرمایا ، ''اے ابو اُمَامَہ ! تم اپنے ہونٹ کیو ں ہلا رہے ہو؟'' میں نے عر ض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں