| جنت میں لے جانے والے اعمال |
کے جلال کو یاد کرنے کے لئے جوتسبیح ،تہلیل ،اور تحمید کرتے ہو تو وہ کلمات عرش کے گرد گھومتے ہیں ان کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طر ح ہوتی ہے اوریہ اپنے پڑھنے والوں کا تذکرہ کرتے ہیں ۔''(پھر فرمایا)،''کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہارا تذکرہ ہمیشہ ہوتا رہے ؟''
(سنن ابن ماجہ، کتا ب الادب، باب فضل التسبیح، رقم ۳۸۰۹، ج۴، ص ۲۵۳)
(۱۲۳۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک ٹہنی کو پکڑکر جھاڑا تو اس کے پتے نہ جھڑے پھر اسے دوبارہ جھاڑا مگر پتے نہ جھڑے ، تیسری مرتبہ پھرجھاڑا تو پتے جھڑ نے لگے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
''سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ
کہنا گناہوں کو اس طرح جھاڑدیتاہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑدیتاہے ۔''
(مسند احمد، رقم ۱۲۵۵۶ ،ج۳ ،ص ۱۵۲)
(۱۲۳۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن ابی اَوْفیٰ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ! میں نے قرآن پاک کی مشق کی کوشش کی مگرنہ کرسکا لہذا مجھے ایسی چیز سکھائیے جو قرآن کی جگہ میرے لئے کفایت کرے۔''حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا
''سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ
کہاکرو۔'' تو اس نے یہ کلمات کہے اور انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کیا ۔ پھر عرض کیا کہ''یا رسول اللہ !یہ تو میرے رب عزوجل کے لئے ہیں میرے لئے کیا ہے؟'' آپ نے فرمایا کہ تم یہ کہا کرو''
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ عَافِنِی وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ
ترجمہ :اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پررحم فرما اور عافیت اور رزق دےاور ہدایت عطا فرما ۔''
جب وہ اعرابی چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''اعرابی اپنے ہاتھوں کو خیر سے بھر کرلے گیا ۔''ایک روایت میں''لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ
کہنے کا اضافہ ہے ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان، کتاب الصلاۃ،با ب قضاء الفوائت ،رقم ۱۸۰۷، ج ۳، ص ۱۴۸)
(۱۲۴۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' کیا تم میں سے کوئی روزانہ احد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ؟ ''صحا بہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! روزانہ احد پہاڑ کے برابر عمل کرنے کی استطاعت کون رکھ سکتاہے ؟'' آپ نے فرمایا ،''تم میں سے ہر ایک اس کی استطاعت رکھتا ہے ۔ ''صحا بہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیسے ؟'' فرمایا
''سُبْحَانَ اﷲِ، لَااِلٰہ اِلَّااﷲُ ، اَلْحَمْدُﷲ ِ اوراَللہُ اَکْبَرُ
کہنا احد پہاڑسے زیاد ہ عظمت والا ہے ۔''
(طبرانی کبیر ،رقم ۳۹۸ ،ج۱۸ ،ص ۱۷۴)