| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۲۳۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' بیشک جنت میں حوض ہیں تم ان کے پودوں میں اضافہ کیا کرو ۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے پودے کیا ہیں؟'' فرمایا
''سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ ۔''
(مجمع الزوائد، کتا ب الاذکار، باب ماجاء فی الباقیات الصالحات،رقم ۱۶۸۵۲ ،ج۱۰ ،ص ۱۰۳)
(۱۲۳۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم میرے پاس سے گزرے تو میں پودے لگارہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' اے ابو ہریرہ ! تم کیا لگارہے ہو؟''میں نے عرض کیا ،''پودے لگارہاہوں۔''فرمایا ،''کیا میں تجھے ان سے بہتر پودوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟'' پھر فرمایا ،'' وہ
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ
ہیں،ان میں سے ہر ایک کے بدلے جنت میں ایک پودا لگا دیا جاتاہے۔''
(سنن ابن ماجہ، کتا ب الادب ، باب فضل التسبیح،رقم ۳۸۰۷ ،ج۴، ص ۲۵۲)
(۱۲۳۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ اور ابوسَعِیْد رضی اﷲتعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل نے اپنے کلام میں سے چار کلمات
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ
کو چن لیا ہے ۔چنانچہ ! جو
سُبْحَانَ اللہِ
کہتاہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہ مٹادئیے جاتے ہیں اور جو
اَللہُ اَکْبَرُ
کہتاہے اسے بھی یہی فضیلت حاصل ہوتی ہے اور جو
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہتاہے اس کی بھی یہی فضیلت ہے اور جودل سے
'' اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
ترجمہ: سب خوبیاں اللہ عزوجل کیلئے جوتمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔'' کہتاہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اسکے تیس گناہ مٹادئیے جاتے ہیں۔''
(المستد رک ،کتا ب الدعا ء والتکبیر الخ،باب فضیلۃ التسبیح، رقم ۱۹۲۹ ،ج۲ ،ص ۱۹۲ )
(۱۲۳۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''اپنی ڈھالیں اٹھالو۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' یا رسول اللہ! کیا دشمن نے حملہ کردیا ہے؟'' فرمایا، '' نہیں! بلکہ جہنم کے مقابلے میں اپنی ڈھالیں اٹھالو اور
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَاللہُ اَکْبَرُ
پڑھاکرو کیونکہ یہ کلمات قیامت کے دن تمہارے آگے اور پیچھے سے حفا ظت کریں گے اور یہی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔''
(المستدرک ،کتاب الدعا ء والتکبیر الخ ، باب المنجیات البا قیات الصا لحات ، رقم ۲۰۲۹ ،ج ۲ ،ص ۲۳۵)
(۱۲۳۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''بے شک تم اﷲ عزوجل