| جنت میں لے جانے والے اعمال |
پچھلے صفحات میں درج شدہ احادیث بھی اس باب کے عنوان پر دلالت کرتی ہيں ،مزید احادیث درج ذیل ہیں۔ (۳۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، '' مومن کے انتقال کے بعد اس کے عمل اور نیکیوں میں سے جو چیزیں اسے ملتی ہيں وہ یہ ہیں(۱) اس کاوہ علم جسے اس نے سکھایا اور پھیلایا اور(۲) نیک بیٹا جسے چھوڑکر مرا ،(۳) قرآن پاک جسے ورثہ میں چھوڑا، (۴) وہ مسجد جسے اس نے بنایا،(۵) مسافروں کے لئے کوئی گھر بنایا ہو ، (۶)کسی نہر کو جاری کیا ہو، (۷) وہ صدقہ جاریہ جسے اس نے حالت صحت اور زندگی میں اپنے مال سے دیا ہو۔''
( سنن ابن ماجہ ، کتا ب السنہ ، باب ثواب معلم الناس الخیر ، رقم ۲۴۲ ، ج ۱، ص ۱۵۷)
(۳۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' جب آدمی انتقال کرتاہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل جاری رہتے ہیں (۱) صدقہ جاریہ(۲) یاجس علم سے نفع حاصل کیا جاتا ہو (۳) یا نیک بچہ جو اس کے لئے دعا کرتا ہو۔''
(صحیح مسلم ،کتا ب الوصیۃ ، باب مایلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ، رقم ۱۶۳۱ ،ص ۸۸۶)
(۳۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ '' انسان کا بہترین ترکہ تین چیزیں ہیں ، (۱)نیک بچہ جو اس کے لئے دعا کرے (۲)صدقہ جاریہ جس کا ثواب اس تک پہنچے(۳) وہ علم جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے۔''
(سنن ابن ماجہ ، کتا ب السنہ ، باب ثواب معلم الناس الخیر،رقم ۲۴۱ ،ج ۱، ص ۱۵۷)
(۳۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذبن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا'' جس نے کسی کو علم سکھا یااسے اس علم پر عمل کرنے والے کا ثواب بھی ملے گا اور اس عمل کرنے والے کے ثواب میں بھی کمی نہ ہو گی۔''
(سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ ، باب ثواب معلم الناس الخیر ، رقم ۲۴۰، ج ۱ ،ص ۱۵۶)
(۴۰)۔۔۔۔۔۔ ـحضرتِ سیدنا سَمُرَہ بن جُنْدب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''لوگوں نے ایساکوئی صدقہ نہیں کیاجوعلم کی اشاعت کی مثل ہو۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۶۹۶۴ ، ج ،۷ ص۲۳۱)