| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۲۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبادہ بن صا مت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبودنہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کی گواہی دی کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ عزوجل کے بندے اور رسول ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندے اور رسول ہیں اور ایسا کلمہ ہیں جسے اللہ عزوجل نے حضرتِ سیدتنا مریم رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف اِلقا ء کیا اوراللہ عزوجل کی طر ف سے پھونکی ہوئی روح ہیں اور جنت اور جہنم کے حق ہونے کی گواہی دی اللہ عزوجل اسے جنت میں داخل فرمائے گا خواہ اس کے عمل جیسے بھی ہوں۔''
(بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب ۴۹ ، رقم ۳۴۳۵ ، ج ۲ ، ص ۴۵۵)
ایک روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ'' جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ عزوجل کے رسو ل ہیں تو اللہ عزوجل اس پر جہنم کی آگ کو حرام فرمادے گا۔''
(مسلم ،کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من مات علی التو حیدد خل الجنۃ ،رقم ۲۹ ، ص ۳۶)
(۱۲۰۵)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ردیف تھے( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سواری پر سوار تھے) تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اے معاذبن جبل !انہوں نے تین مرتبہ عرض کیا۔
'' لَبَّیکْ یاَرَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!
(یعنی یارسول اللہ!میں حاضرہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''کہ جو کوئی اس بات کی سچے دل سے گواہی دے گا کہ اللہ عزوجل کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ عزوجل کے رسول ہیں تواللہ عزوجل اس پر جہنم کی آگ حرام فرمادے گا ۔'' عرض کیا،'' یارسول اللہ ! کیا میں یہ بات لوگوں کو نہ بتادوں تاکہ وہ خوش ہوجائیں۔'' فرمایا ،''پھر تو وہ اسی پر بھر وسا کرنے لگیں گے ۔''
(بخاری ، کتاب العلم ، باب من خص بالعلم قوما دون قوم ...الخ، رقم ۱۲۸ ، ج ۱ ، ص ۶۷)
(۱۲۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنارِفَا عہ جُھْنِی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ''ہم اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ سفر میں تھے ۔جب ہم کدید یا قدید کے مقام پرپہنچے تو آپ نے اللہ عزوجل کی حمد بیان کی اور فرمایا، ''بہت خوب ۔''پھر ارشاد فرمایا ''میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں گواہی دیتاہوں کہ جو بندہ اس با ت کی سچے دل سے گواہی دے گاکہ اللہ عزوجل کے سواء کوئی معبود نہیں اور اس بات کی کہ میں(یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم )اللہ عزوجل کا رسول ہوں پھر اس پرثابت قدم رہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔'
(مسند امام احمد بن حنبل ،رقم ۱۶۲۱۸، ج ۵، ص ۴۸۰)