(مسند احمد ، مسند معا ذ بن جبل ،رقم ۲۲۱۶۳ ،ج۸ ،ص ۲۵۷)
(۱۱۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' بے شک اللہ عزوجل کے عرش کے سامنے نور کا ایک ستون ہے، جب بندہ
کہتا ہے تو وہ ستو ن ہلنے لگتا ہے ، اللہ تبارک وتعالی اسے فرماتاہے ،''ٹھہرجا۔'' وہ عر ض کرتا ہے،'' میں کیسے ٹھہرو ں حالانکہ تو نے اس کلمہ پڑھنے والے کی مغفر ت نہیں فرمائی ۔''تو اللہ رب العزت فرماتاہے،'' بے شک میں نے اس کی مغفرت فرمادی تو پھروہ ستو ن ٹھہرجا تا ہے ۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الاذکار ،باب ماجاء فی فضل لا الہ الا اللہ، رقم۱۶۸۰۴ ،ج۱۰ ،ص ۸۸)
(۱۱۹۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جو بندہ دن یا را ت کی کسی ساعت میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں سے برائیا ں مٹا کران کی جگہ اتنی ہی نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الاذکار ،با ب ماجاء فی فضل لاالہ الا اللہ، رقم ۱۶۸۰۳، ج۱۰، ص ۸۸)
(۱۲۰۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا
،'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہنے والو ں کو قبر اور آخرت میں وحشت نہ ہو گی ،گو یا کہ میں
کہنے والو ں کو اپنے سرو ں سے مٹی جھاڑتے اور
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْحَزَنَ
( تما م تعریفیں اس رب عزوجل کے لئے ہیں جس نے ہم سے غم کو دور فرمایا) کہتے ہوئے سن رہا ہو ں ۔''
(طبرانی اوسط ، من اسمہ یعقوب ،رقم ۹۴۷۸،ج ۶ ،ص۴۸۰)
(۱۲۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،
کہنا نصف میزان کو بھر دیتاہے اور
پورے میزان کو بھر دیتاہے اور
کے لئے اللہ عزوجل تک پہنچنے کی راہ میں کوئی حجاب نہیں ''۔
(سنن الترمذی، کتاب الدعوات ،(با ب ۹۲) ماجاء فی عقد التسبیح ،رقم ۲۹ ۳۵، ج ۵، ص ۳۰۸)
(۱۲۰۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق