Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
424 - 736
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
ہے۔''
  (سنن ابن ماجہ، کتاب الادب ،باب فضل الحامدین ،رقم ۳۸۰۰ ،ج۴ ،ص ۲۴۸ )
(۱۱۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاـ، '' جس نے اخلاص کے ساتھ
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہاوہ جنت میں داخل ہوگا۔''عرض کیا گیا،'' اِخلاص سے کیا مراد ہے؟'' فرمایا، '' اس کا اخلاص یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیزوں سے دور رہو۔''
                  (طبرانی کبیر،رقم ۵۰۷۴ ،ج ۵، ص ۱۹۷)
(۱۱۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس بندے نے اخلاص کے ساتھ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہا تو آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچتارہے ۔''
(سنن التر مذی، کتاب الدعوات باب دعاء ام سلمہ ،رقم ۳۶۰۱،ج۵، ص ۳۴۰)
(۱۱۹۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اپنے ایما ن کی تجدید کر لیا کرو۔'' عر ض کیاگیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم اپنے ایما ن کی تجدید کیسے کیا کریں؟'' فرمایا،
'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کثرت سے پڑھاکرو۔''
      (مسند احمد ، مسند ابی ہر یرۃ ،رقم ۸۷۱۸ ، ج ۳ ، ص ۲۸۱ )
(۱۱۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی با رگا ہ میں حا ضر تھے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، ''کیا تمہارے ساتھ کوئی اجنبی شخص (یعنی اہل کتا ب)بھی ہے؟ '' ہم نے عر ض کیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!نہیں ہے۔'' تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے دروازہ بندکر نے کا حکم دیا اور فرمایا،'' اپنے ہاتھ اٹھا لواور
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہو۔'' 

    ہم نے تھوڑی دیرکے لئے ہاتھ اٹھا ئے پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے الحمد للہ کہا اور بارگاہ ِ الٰہی عزوجل میں دعا کی ، ''اے اللہ عزوجل! بے شک تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا ہے اور مجھ سے اس کلمہ پر جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور بے شک تو اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا۔'' پھر ہم سے فرمایا کہ'' خو شخبری سن لو کہ اللہ عزوجل نے تمہا ری مغفرت فرما دی۔''
(مسند احمد ، حدیث شداد بن اوس ، رقم ۱۷۱۲۱ ، ج ۶ ، ص ۷۸ )
(۱۱۹۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' میں ایک ایساکلمہ جا نتا ہو ں جو اسے اپنے دل کی گہرائی سے کہے پھر اس پر مر جائے وہ آگ پرحرا م ہے وہ کلمہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
ہے۔''
Flag Counter