(الدرالمنثور، ابراہیم:۲۴،ج۵،ص۲۰)
اس بارے میں احادیث مبارکہ:
(۱۱۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے والے خوش نصیب لوگ کون ہونگے ؟'' فرمایا ، '' اے ابو ہریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ تم سے پہلے مجھ سے یہ بات کوئی نہ پوچھے گا کیونکہ میں حدیث سننے کے معاملہ میں تمہاری حرص کو جانتاہوں، قیامت کے دن میری شفاعت پانے والا خوش نصیب وہ ہوگا جو صدق ِدل سے
(بخاری ،کتاب العلم ،باب الحرص علی الحدیث ، رقم ۹۹، ج ۱ ، ص ۵۳)
(۱۱۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' حضرتِ سیدنا موسی علیہ السلام نے عرض کیا''یا اللہ عزوجل! مجھے ایسی چیز سکھا جس کے ذریعے میں تجھے یاد کیا کروں اور تجھے پکارا کروں۔'' فرمایا،
'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
پڑھاکر و۔'' عرض کیا ،''یا رب عزوجل! یہ توتیرا ہر بند ہ کہتا ہے ۔''فرمایا
،'' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
پڑھا کرو۔''عرض کیا ، ''اے اللہ عزوجل! میں ایسی چیز سیکھنا چاہتاہوں جو میرے لئے خاص ہو۔'' فرمایا،'' اے موسیٰ اگر ساتوں زمین اور ساتوں آسمانوں کو ایک پلڑے میں رکھاجائے اور
کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یہ ان پر غالب آجائے گا ۔''
(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ،کتاب التا ریح ،باب بدء الخلق ،رقم ۲۱۸۵ ، ج ۸ ، ص ۳۵)
(۱۱۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' سب سے افضل ذکر