Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
421 - 736
 (۱۱۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا، ''لوگو! بیشک اللہ عزوجل کے فرشتے قافلے کی صورت میں سیر کرتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں میں ٹھہرجاتے ہیں لہذاجنت کی کیاریوں میں سے کچھ نہ کچھ چن لیا کرو۔'' صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا،'' جنت کی کیاریاں کہاں ہیں؟''ارشاد فرمایا،'' ذکر کی محفلیں، لہذا صبح وشام اللہ عزوجل کے ذکر میں گزارواور اسے اپنے دل میں یاد کیا کرو، جو اپنا مرتبہ اللہ عزوجل کے نزدیک دیکھنا چاہتاہے تو وہ غور کرے کہ اس کے دل میں اللہ عزوجل کا کیا مرتبہ ہے؟ کیونکہ اللہ عزوجل بندے کو ویسا ہی مقام عطافرماتا ہے جیسا وہ اللہ عزوجل کےلیے اپنے  ہاں رکھتا ہے( یعنی جتنا وہ اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اور اس کے احکامات پر عمل کرتا ہے )۔''
   (ابویعلی ، مسند جابر بن عبداللہ ، رقم ۲۱۳۵، ج ۲ ، ص ۳۱۷)
(۱۱۸۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جب تمہارا گزر جنت کی کیاریوں پرسے ہوتو اس میں سے کچھ نہ کچھ چن لیا کرو۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ،''جنت کی کیاریاں کیا ہیں ؟'' فرمایا ''ذکر کے حلقے ۔''
  (تر مذی ، کتاب الدعوات ، باب ۸۷ ، رقم ۲۱ ۳۵ ، ج ۵ ، ص ۳۰۴ )
(۱۱۸۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ذکر کی مجلسوں کی غنیمت کیا ہے؟'' فرمایا ، '' مجالسِ ذکر کی غنیمت جنت ہے ۔''
    (مسند احمد, حدیث عبداللہ بن عمر وبن العاص ،رقم ۶۶۶۳ ، ج ۲ ، ص ۵۹۱)
(۱۱۸۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل قیامت کے دن ایک قوم کو اٹھائے گا جن کے چہروں پر نور ہوگا اور وہ موتیوں کے منبر وں پر ہوں گے ، لوگ ان پر رشک کریں گے حالانکہ نہ تو وہ انبیاء ہونگے نہ ہی شہدا ء ۔''ایک اعرابی نے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں ان کا حلیہ بیان فرمائیے تاکہ ہم انہیں پہچان سکیں۔''ارشاد فرمایا،'' وہ مختلف قبائل اور مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے اور اللہ عزوجل کے لئے آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے جو ذکراللہ کی محفل میں جمع ہوکر اللہ عزوجل کا ذکرکریں گے۔ ''
   (مجمع الزوائد ، کتاب الاذکار ، باب ماجاء فی مجالس الذکر، رقم ۱۶۷۷۰ ،ج ۱۰ ، ص ۷۷)
(۱۱۸۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ ''رحمن عزوجل کی بارگاہ میں کچھ لوگ ہونگے جو نہ تو انبیاء ہونگے نہ ہی شہداء ،ان کے چہروں کی چمک لوگوں کی نگاہوں کو خیرہ کئے دیتی ہوگی انبیاء اور شہدا ء ان کے مرتبے
Flag Counter