| جنت میں لے جانے والے اعمال |
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیۡنٰکَ عَنْہُمْ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا ﴿28﴾
ترجمہ کنزالایمان : اوراپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضاچاہتے ہیں اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اَور پرنہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کاسنگار چاہوگے اوراس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یا د سے غا فل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلااور اس کا کام حد سے گزرگیا۔''(پ 15، الکہف: 28)
پھر فرمایا ،'' جب تمہارا کوئی گروہ بیٹھتاہے تو اس کے ساتھ اتنی ہی تعداد میں ملائکہ بھی بیٹھ جاتے ہیں اگر تمہارا گروہسُبْحَانَ اﷲِ
کہتا ہے تو فرشتے بھی
سُبْحَانَ اﷲِ
کہتے ہیں اگر تم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
کہتے ہو تو فرشتے بھی
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
کہتے ہیں اور اگر تم
اَللہُ اَکْبَرُ
کہتے ہو تو فرشتے بھی
اَللہُ اَکْبَرُ
کہتے ہیں پھر وہ فرشتے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتے ہیں ۔
پھر وہ فرشتے عرض کرتے ہیں (حالانکہ اللہ عزوجل زیادہ جاننے والا ہے) ، ''اے ہمارے رب عزوجل !تیرے بندے تیری پاکی بیان کرتے تھے تو ہم نے بھی تیری پاکی بیان کی، انہوں نے تیری بڑائی بیان کی تو ہم نے بھی تیری بڑائی بیان کی، انہوں نے تیری حمد کی تو ہم نے بھی تیری حمد بیان کی ۔''تو ہمارا رب عزوجل فرماتاہے،'' اے فرشتو !گواہ ہو جاؤ کہ میں نے انہیں بخش دیاہے ۔''وہ عرض کرتے ہیں،'' ان میں فلاں بندہ بڑا بد کار ہے؟'' تو اﷲ عزوجل فرماتاہے ،''وہ ایسی قوم ہے جس کا ہم نشین بھی بدبخت نہیں رہتا۔''(مجمع البحر ین ، کتاب الاذکار ، باب مجالس ذکر اللہ ، رقم ۴۵۲۰ ، ج ۴ ، ص ۱۹۲)
(۱۱۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل کے کچھ فرشتے قافلے کی صورت میں ذکرکے حلقوں کو تلاش کرتے ہیں ۔جب وہ کسی اجتماعِ ذکر پر آتے ہیں تو اسے اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں اور اپنے قاصد فرشتے کو آسمان کی طرف رب تبارک وتعالی کے پاس بھیجتے ہیں ۔پھر عرض کرتے ہیں،'' اے ہمارے رب عزوجل! ہم تیرے بندوں میں سے کچھ بندوں کے پاس سے آئے ہیں، وہ تیری نعمتوں کی عظمت بیان کررہے تھے ،تیری کتاب کی تلاوت کررہے تھے ، تیرے حبیب محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج رہے تھے اور تجھ سے دنیا و آخر ت کی بھلائیاں مانگ رہے تھے۔'' تو اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے،'' ان کو میری رحمت سے ڈھانپ دو کیونکہ وہ ایسی قوم ہے جن کا ہم نشین محروم نہیں رہتا ۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الاذکار ، باب ماجاء فی مجالس الذکر ، رقم ۱۶۷۶۹، ج۱۰، ص ۷۷)