Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
419 - 736
ہیں'' نہیں ۔''اللہ عزوجل فرماتاہے،'' اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو کیا کرتے ؟'' 

    پھر فرشتے عر ض کرتے ہیں،'' وہ تجھ سے مغفرت چاہتے تھے۔'' رب عزوجل فرماتاہے ،''میں نے ان کی مغفرت فرمادی اور ان کی مرا د انہیں عطا فرمادی اور جس سے وہ پناہ چاہتے تھے انہیں ا س سے پناہ عطا فرمادی ۔'' وہ عر ض کرتے ہیں،''یا رب عزوجل ! ان میں فلاں شخص بھی ہے جوبہت گنہگار ہے وہ وہاں سے گزررہاتھا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔''اللہ عزوجل فرماتاہے،'' میں نے اس کو بھی بخش دیاکیونکہ یہ ایسی قوم ہے جس کا ہم نشین بھی محروم نہیں رہتا ۔''
 (مسلم ،کتاب الذکرو الدعاء ،باب فضل مجالس الذکر ،رقم ۲۶۸۹، ص ۱۴۴۴)
 (۱۱۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' اﷲ عزوجل فرماتاہے ، عنقریب قیامت کے دن جمع ہونے والے جان جائیں گے کہ کرم والے لوگ کون ہیں؟'' عرض کیا گیا،''یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم! کرم والے لوگ کون ہیں؟'' فرمایا ،''ذکر کی محفلیں قائم کرنے والے۔''
 (الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ،کتاب الرقائق ، باب الا ذکار ، رقم ۸۱۳ ، ج۲ ، ص۹۳)
 (۱۱۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو قوم صرف اللہ عزوجل کی رضا کے لئے ذکر کرنے کیلئے بیٹھے تو ان کے اٹھنے سے پہلے آسمان سے ایک منادی انہیں مخاطب کرکے ندا کر تاہے کہ مغفرت یافتہ ہوکر کھڑے ہوجاؤ کہ تمہارے گناہ نیکیوں میں بدل دیئے گئے ہیں۔''
 (ابویعلی ، مسند انس بن مالک ، رقم ۴۱۲۷ ، ج ۳ ، ص ۴۰۸)
 (۱۱۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو قوم کسی مجلس میں اللہ عزوجل کی رضا کے لئے اس کا ذکر کرنے کسی مجلس میں بیٹھتی ہے ان کے اٹھنے سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا جاتا ہے کہ کھڑے ہوجاؤ تمہاری مغفرت کردی گئی اور تمہارے گناہ نیکیوں میں بدل دیئے گئے ہیں۔''
    (طبرانی کبیر، رقم ۶۰۳۰ ، ج ۶ ،ص ۲۱۲ )
 (۱۱۸۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حضرتِ سیدنا عبداﷲ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تووہ صحابہ کرام علیھم الرضوان کو وعظ فرمارہے تھے ۔رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''تم ہی وہ لوگ ہو جن کے ساتھ میرے رب عزوجل نے مجھے صبر کرنے کا حکم دیا ہے پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ،
Flag Counter