| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۱۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اپنے صحابہ کے ایک حلقے کے قریب سے گزرے تو ان سے پوچھا،'' تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہے؟ ''انہوں نے عرض کیا،'' اللہ عزوجل نے جو ہمیں اسلام کی ہدایت عطافرمائی اور اس کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا اس پر ہم اللہ عزوجل کا ذکر کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔'' فرمایا،'' تمہیں اللہ عزوجل کی قسم ! کیا تم صرف اسی کام کے لیے بیٹھے ہو؟'' صحابہ کر ام علیھم الرضو ان نے عرض کیا،'' اللہ عزوجل کی قسم ! ہم اسی کام کے لئے بیٹھے ہیں۔'' توآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''میں نے تم سے تہمت کی وجہ سے حلف نہیں اٹھوایا بلکہ میرے پا س جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھ سے عرض کیا کہ اللہ عزوجل فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرماتاہے ۔''
(مسلم ،کتاب الذکرو الدعاء ،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن ،رقم ۲۷۰۱،ج۱ ،ص ۱۴۴۸ )
(۱۱۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب صحابہ کرام علیھم الرضوان میں سے کسی شخص سے ملتے تو کہتے کہ'' آؤ !ہم اپنے رب عزوجل پر گھڑی بھرکے لئے ایمان لے آئیں۔''ایک دن آپ رضی اللہ عنہ نے یہی با ت ایک شخص سے کہی تو وہ ناراض ہوکرنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی با رگاہ میں حاضر ہوئے اور عر ض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ابن رواحہ کونہیں دیکھتے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کئے ہوئے ایمان سے دور ہو کر ایک گھڑی کے ایمان کی طرف جارہے ہیں؟''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل ابن رواحہ پر رحم فرمائے وہ ان مجالس کو پسند کرتے ہیں جن پرفرشتے فخر کرتے ہیں ۔''
(مسند احمد ، مسند انس بن مالک ، رقم ۷۹۸ ۱۳ ، ج ۴ ، ص ۵۲۸)
(۱۱۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل کے کچھ فرشتے راستوں میں گھوم پھرکر اللہ عزوجل کاذکرکرنے والوں کوتلاش کرتے ہیں۔ جب وہ کسی قوم کو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ اپنی منزل کی طرف آجاؤ ۔پھر وہ ان لوگوں کو آسمان دنیا تک اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں تو ان کا رب عزوجل حالانکہ وہ خوب جانتا ہے پھر بھی ان سے پوچھتا ہے کہ'' میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ ''فرشتے عرض کرتے ہیں،'' تیری تسبیح پڑھتے ہیں اور تیری پاکی ،بڑائی ، حمد اور عظمت بیان کرتے ہیں ۔''اللہ تعالیٰ فرما تاہے،'' کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟''فرشتے عرض کرتے ہیں ،''تیری قسم!انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔''