| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۱۶۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''کچھ لوگ ایسے ہیں جو نرم وملائم بستروں پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں اﷲ عزوجل انہیں بلند درجات عطا فرمائے گا ۔''
( الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان، کتاب البر والاحسان ،باب الاخلاص واعمال السر، رقم ۴۰۱،ج۱، ص ۳۰۹)
(۱۱۶۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' ہر دن اور رات میں اللہ عزوجل ایک صدقہ کرتاہے اور اس کے ذریعے اپنے بندوں پر احسان فرماتا ہے اور اللہ عزوجل نے اپنے بندے پر اپنے ذکر کے الہام سے بڑااحسان نہیں فرمایا۔''
( الترغیب والترہیب ،کتاب الذکر والدعا ء ، باب التر غیب فی الاکثارمن ذکر اللہ ، رقم ۲۳ ، ج ۲ ، ص ۲۵۷)
(۱۱۶۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اگر ایک شخص کی جھولی درہموں سے بھری ہوئی ہو اور وہ انہیں تقسیم کررہاہو اور دوسرا اللہ عزوجل کا ذکر کررہاہو تو اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والا افضل ہوگا۔''
(طبرانی اوسط ، من اسمہ محمد ،رقم ۵۹۴۹ ، ج ۴ ،ص ۲۷۴ )
(۱۱۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کونسا مجاہد سب سے زیاد ہ ثواب والا ہے ؟''فرمایا،'' جو اُن میں سے اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والا ہو۔'' اس نے پھر عرض کیا،'' کونسا روزہ دار سب سے زیادہ ثواب والا ہے؟'' فرمایا،'' جو اُن میں سے اللہ عزوجل کا ذکر کثرت سے کر نے والاہو۔'' پھر اس نے نماز ، زکوٰۃ ،حج اور صدقہ کے بارے میں یہی سوال کیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم و ہی جواب دیتے رہے کہ جو اُن میں سے کثرت سے اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والا ہو تو حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس شخص سے فرمایا،'' اے ابو حفص ! ذکر کرنے والے تو ہربھلائی لے گئے ،''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''ہاں! ایسا ہی ہے ۔''
( مسند احمد ، حدیث معا ذ انس الجھنی ،ر قم ۱۵۶۱۴ ،ج۵ ، ص ۳۰۸)
(۱۱۷۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ا للہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اہلِ جنت کو اس گھڑی کے سواء کسی شے پر حسرت نہ ہوگی جس میں وہ اللہ عزوجل کا ذکر نہ کرسکے تھے ۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۱۸۲ ، ج ۲۰ ، ص ۹۳)
(۱۱۷۲)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا، کہ'' آدمی کی جو گھڑی ایسی گزرے جس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرپائے تو قیامت کے دن اسے اس گھڑی پر حسرت ہوگی۔''
( شعب الایمان ، با ب فی محبۃ اللہ عزوجل ، فعل فی ادا مۃ ذکر اللہ،رقم ۵۱۱، ج۱ ، ص ۳۹۲)