Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
414 - 736
کون ہے ؟ کیا کوئی فرشتہ ہے ؟ ''مجھ سے کہاگیا ،''نہیں۔'' میں نے پوچھا،'' کیا کوئی نبی ہیں ؟'' عرض کیا گیا ،'' نہیں۔'' میں نے پوچھا،'' پھر یہ کون ہے؟"کہا گیا ،''یہ وہ شخص ہے جس کی زبان اللہ عزوجل کے ذکر سے تر رہتی تھی اور دل مساجد میں لگا رہتا تھا اور اس نے کبھی اپنے والدین کو گالیاں نہیں دلائیں۔''
  ( التر غیب والترہیب ،کتاب الذکر و الدعا ء ، باب التر غیب فی الاکثار من ذکر اللہ ، رقم ۷ ، ج ۲ ، ص ۲۵۳)
 (۱۱۶۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے جدا ہوتے وقت جو آخری کلام کیا وہ یہ سوال تھا کہ''اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے پسند یدہ عمل کون سا ہے ؟'' تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تمہاری زبان اللہ عزوجل کے ذکر سے تر ہو۔'' 

    ایک روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا ،''مجھے اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے افضل اور پسندیدہ عمل کے بارے میں بتایئے ۔''فرمایا ،''تمہارا اس طرح مرنا کہ تمہاری زبان اللہ عزوجل کے ذکر سے تر ہو۔''
 (التر غیب والترہیب ،کتاب الذکر و الدعا ء ، باب التر غیب فی الاکثار من ذکر اللہ ، رقم ۷ ، ج ۲ ، ص ۲۵۳)
 (۱۱۶۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہو ئی
''وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ
ترجمہ کنزالایمان :اور وہ کہ جوڑکررکھتے ہیں سونااور چاندی ۔'' (پ ۱۰، التوبہ: ۳۴)

    توہم اس وقت رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کیساتھ سفر پر تھے ۔ بعض صحابہ کرام علیھم الرضوان کہنے لگے ،'' سونے اور چاندی کے بارے میں تو آیت نازل ہوگئی اگر ہم جان لیں کہ کونسا مال بہتر ہے تو ہم اسے اختیار کرلیں گے۔'' تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان ، شکر کرنے والا دل اور ایماندار بیوی ہے جو اس کے ایمان میں مدد گا ر ہو۔''
   (ترمذی، کتاب التفسیر ،با ب ومن سورۃ التو بۃ ،رقم ۳۱۰۵ ،ج۵ ،ص ۶۵)
 (۱۱۶۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جسے چار چیزیں مل گئیں اسے دنیاوآخرت کی بھلائی مل گئی ، شکر کرنے والادل، ذکر کرنے والی زبان ، آزمائش پر صبر کرنے والا بدن اور اپنے آپ اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرنے والی بیوی۔''
( الترغیب والترہیب ، کتاب الذکر والدعاء ، باب التر غیب فی الاکثار ذکر اللہ ، رقم ۱۶، ج۲، ص ۲۵۶)
 (۱۱۶۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اپنے رب عزوجل کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔''
 ( بخاری ، کتاب الدعوات ، باب فضل ذکر اللہ عزوجل، رقم۶۴۰۷ ،ج۴ ، ص۲۲۰)
Flag Counter