Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
413 - 736
    حضرتِ سیدنا معا ذ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ذکر اللہ عزوجل سے زیادہ اللہ تعالی کے عذاب سے بچانے والی کوئی چیز نہیں ۔
       (تر مذی ، کتاب الدعوات ،باب ۶ ، رقم ۸۸ ۳۳ ، ج ۵ ، ص ۲۴۶)
 (۱۱۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں كہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سوال کیا گیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے افضل درجے والے کون لوگ ہونگے ؟ '' ارشادفرمایا،''اللہ عزوجل کا کثرت سے ذکر کرنے والے ۔'' میں نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا وہ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی سے بھی افضل ہونگے ؟''فرمایا،'' اگر وہ اپنی تلوار کے ساتھ کفار ومشرکین کو قتل کرتا رہے حتی کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والے افضل ہیں۔''
  (ترمذی، کتاب الدعوات، باب ۵، رقم ۳۳۸۷، ج۵، ص ۲۴۵)
 (۱۱۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' کسی بندے نے اللہ عزوجل کے ذکر سے بڑھ کر عذاب سے نجات دلا نے والا کوئی عمل نہیں کیا۔'' عرض کیا گیا ،''کیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنابھی نہیں؟ فرمایا ،'' اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنا بھی نہیں مگر جب کہ لڑتے لڑتے اس کی تلوار ٹوٹ جائے۔''
 (طبرانی اوسط ، من اسمہ ابراھیم ، رقم ۲۲۹۶ ، ج ۲ ،ص ۳)
 (۱۱۶۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' بیشک ہر چیز کی صفائی ہوتی ہے اور دلوں کی صفائی اللہ عزوجل کا ذکر ہے اورذکر اللہ عزوجل سے بڑھ کر اللہ عزوجل کے عذاب سے نجات دلانے والی کوئی چیز نہیں۔'' صحا بہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا،'' کیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟'' فرمایا،'' نہیں،اگرچہ مجاہد تلوار ٹوٹنے تک لڑتا رہے ۔''
 ( الترغیب والترہیب کتاب الذکر والدعاء ،باب التر غیب فی الاکثار من ذکر اللہ ،رقم ۱۰، ج۲، ص ۲۵۴)
 (۱ٍ۱۱۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن بُسْر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلامی احکامات مجھ پر کثیر ہوگئے ہیں مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتایئے جس کو میں مضبوطی سے تھا م لوں۔'' ارشادفرمایا، '' تیر ی زبان ہمیشہ ذکر اللہ سے تر رہا کرے ۔''
 (ترمذی ،کتاب الدعوات ،باب ماجاء فی فضل الذکر ،رقم ۳۳۸۶، ج۵، ص ۲۴۵)
 (۱۱۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابومَخَارِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' معراج کی رات میں نے ایک شخص کو دیکھا جوعرش کے نور میں ڈوبا ہواتھا تو پوچھا ،''یہ
Flag Counter