Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
412 - 736
 (۱۱۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل فرماتاہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں جو وہ مجھ سے کرتاہے اور جب وہ میرا ذکر کرتاہے تو میں اس کے ساتھ ہوتاہوں ، اگر وہ مجھے تنہائی میں یا د کر تاہے تو میں بھی اسے تنہایا د کرتا ہوں اور اگر وہ میراذکر کسی مجمع میں کرتاہے تو میں اس سے بہتر مجمع میں اس کا ذکر کرتاہوں اگر وہ ایک بالشت مجھ سے قریب ہوتاہے تو میری رحمت اس سے  ایک ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میری رحمت  اس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور اگر وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تومیر ی رحمت اس کے پاس دوڑتی ہوئی آتی ہے۔ ''
 (بخاری، کتاب التو حید ،باب قول اللہ ویحذرکم اللہ نفسہ، رقم ۷۴۰۵ ،ج۴ ،ص ۵۴۱)
 (۱۱۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ رب عزوجل فرماتا ہے ،'' اے ابن آدم ! جب تو تنہائی میں میرا ذکر کرتاہے تو میں بھی تنہا تیرا ذکر کرتا ہوں اورجب تو کسی مجمع میں میرا ذکر کرتاہے تو میں اس مجمع سے بہتر مجمع میں تیرا ذکر کرتاہوں۔''
 ( الترغیب والترہیب ،کتاب الذکرو الدعاء ، التر غیب فی الا کثار من ذکر اللہ ،رقم ۳، ج۲، ص ۲۵۲)
 (۱۱۵۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ اپنے دل میں میرا ذکر کرتاہے تو میں اپنے فرشتوں کی جماعت میں اس کا چرچاکرتا ہوں اور جب میرا بندہ کسی مجمع میں میرا ذکر کرتاہے تومیں رفیق اعلیٰ میں اس کا ذکر کرتا ہوں ۔''
 (التر غیب والترہیب ،کتاب الذکرو الدعا ء ، باب التر غیب فی الاکثار من ذکر اللہ الخ،رقم ۲، ج ۲، ص ۲۵۲ )
 (۱۱۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''اللہ عزوجل فرماتاہے جب میر ا بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے لئے ہلتے ہیں تو میں اس کے ساتھ ہوتاہوں ۔''
  (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الذکر،رقم ۳۷۹۲، ج۴، ص۲۴۳)
 (۱۱۵۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' کیا میں تمہیں تمہارے اس عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے رب عزوجل کے نزدیک سب سے بہتر اور پاکیزہ ہے ، تمہارے درجا ت میں سب سے اونچا اور تمہارے لئے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، تمہارے لئے دشمنوں سے لڑنے اور ان کی گردنیں کا ٹنے یااپنی گردن کٹوانے سے بہتر ہے؟'' صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ،''ضرور ارشاد فرمائیں۔''آپ نے ارشاد فرمایا ،''اللہ عزوجل کا ذکر ۔''
Flag Counter