Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
411 - 736
اس بارے میں احادیث ِ کریمہ :
(۱۱۴۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم مکہ کے راستے پر سفر کرتے ہوئے ایک پہاڑ سے گزرے جسے جُمدان کہاجاتا تھا تو فرمایا ،''اس جُمدا ن کی سیر کیا کرو، مُفَرِّدُون سبقت لے گئے ۔''صحابہ کر ام علیھم الرضوان نے عرض کیا ،''یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مُفَرِّدُون سے کیا مرادہے؟'' فرمایا،'' اللہ عزوجل کا کثرت سے ذکر کرنے والے اور والیاں ۔''
(مسلم ، کتاب الذکر والدعاء ، باب الحث علی ذکر اللہ تعالی ،رقم ۲۶۷۶ ، ص ۱۴۳۹)
     ایک روایت میں ہے کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مفردون کون ہيں ؟'' فرمایا، '' پابندی کےساتھ اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والے ، ذکر ان کے بوجھ کو کم کر دیتا ہے اور وہ قیامت کے دن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ہلکے ہوکرحاضر ہونگے ۔''
   (تر مذی ،کتاب الدعوات ،باب فی العفو والعافیۃ، رقم ۳۶۰۷ ،ج ۵ ، ص ۳۴۲)
 (۱۱۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل نے حضرت یحیٰ بن زکریا علیھما السلام کی طرف پانچ باتوں کی وحی فرمائی اور ان پر خود عمل کرنے اور بنی اسرائیل کو ان پر عمل کی ترغیب دلانے کا حکم دیا۔''پھرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ،''اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں تمہیں کثرت سے ذکرکرنے کا حکم دیتاہوں اور ذکر کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسکے دشمن اس کی تلاش میں ہوں پھر وہ ایک قلعے کے پاس پہنچ کر اپنے آپ کو اس میں چھپا لے، اسی طرح بندہ ذکرُ اللہ عزوجل کے ذریعے ہی شیطان سے نجات حاصل کرسکتا ہے ۔''
    (المستدرک ،کتاب الصوم ،باب وان ربیح الصوم ربیح المسک ،رقم ۱۵۷۴ ،ج ۲ ،ص ۵۱)
 (۱۱۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا اُمّ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے ۔''فرمایا ، '' گناہوں کو چھوڑدو کیونکہ یہ سب سے افضل ہجر ت ہے اور فرائض کی پابندی کیا کرو کیونکہ یہ سب سے افضل جہاد ہے اور ذکر اللہ عزوجل کی کثر ت کیا کرو کیونکہ تم اللہ عزوجل کے پاس کثرتِ ذکر کے علاوہ کسی پسندیدہ چیز کے ساتھ حاضرنہیں ہوسکتے۔''
     (طبرانی کبیر، رقم ۳۱۳ ،ج۲۵، ص ۱۲۹)
 (۱۱۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''تم میں سے جو رات کو عبادت کرنے ،اپنے مال کو راہِ خدا عزوجل میں خرچ کر نے اور دشمن سے جہاد کرنے سے عاجز ہو توا سے چاہیے کہ اللہ عزوجل کا ذکرکثرت سے کیا کرے۔''
 (شعب الایمان ، باب فی صجۃ اللہ عزوجل ،فصل فی ادامۃ ذکر اللہ عزوجل ، رقم ۵۰۸ ،ج ۱ ، ص ۳۹۰)
Flag Counter