Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
408 - 736
انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ کہیں جارہا تھاکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کوسورۂ اخلاص پڑھتے ہوئے سنا توآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،'' واجب ہوگئی ۔''میں نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیاواجب ہوگئی؟ ''فرمایا،'' جنت ۔''
 (الموطا للامام مالک ، کتاب القرآن ، باب ماجاء فی قرا ء ۃ قل ھو اللہ احد ، رقم ۴۹۵ ، ج ۱، ص۱۹۸ )
 (۱۱۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا،'' جو شخص روزانہ دو سو مرتبہ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھے گا اس کے پچاس برس کے گناہ مٹادئیے جائیں گے مگر یہ کہ اس پر قرض ہو۔''
 (تر مذی ،کتاب فضائل القرآن ،باب ماجا ء فی سورۃ الاخلاص ، رقم ۲۹۰۷ ، ج ۴ ،ص ۴۱۱)
وضاحت :
     رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس قول ''مگر یہ کہ اس پر قرض ہو'' سے مراد یہ ہے کہ یہ سورت ان گناہوں کو تو مٹادیتی ہے جو حقوق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ قرض کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم
سورۃ الفلق اور سورۃ النا س کی فضیلت اور ثواب
(۱۱۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے سورہ ھود اور سورہ یوسف کی آیتیں پڑھائیے ۔'' تو رسول ِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اے عُقْبَہ بن عامر! تم
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
سے زیاد ہ اللہ عزوجل کو محبوب اور اس کے نزدیک زیادہ بلیغ کوئی سورت ہرگز نہیں پڑھ سکو گے اگر تم سے ہوسکے تونماز میں یہ سورت پڑھنا نہ چھوڑو۔''
      (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ،باب صفۃ الصلاۃ ، رقم ۱۸۳۹ ، ج ۳ ، ص ۱۵۹)
(۱۱۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' کیا تم جانتے ہو کہ گزشتہ رات کچھ ایسی آیتیں نازل ہوئیں جن کی مثل کوئی آیت نہیں وہ
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
اور
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ
ہیں۔''
(مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین ، باب فضل قراء ۃ المعوذتین ، رقم ۸۱۴، ص ۴۰۶)
   جبکہ ابوداؤد شریف کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ''میں رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جُحْفَہ اور اَبْوَاء کے درمیان سے گزررہا تھا کہ ہمیں شدید آندھی اور تاریکی نے گھیر لیا تورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
اور
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ
کے ذریعے پناہ مانگنا شروع کی اور مجھ سے فرمایا،'' اے عُقْبَہ!ان دونوں کے ذریعے پناہ مانگا کرو کسی پناہ چاہنے والے نے اس کی مثل
Flag Counter