Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
407 - 736
جمع ہونا تھا وہاں جمع ہوگئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ
پڑھی اور واپس تشریف لے گئے ۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے ،''شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کی وجہ سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے ہیں ۔'' جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم دوبارہ تشریف لائے تو فرمایا کہ ''میں نے تمہارے سامنے تہائی قرآ ن پڑھنے کا کہاتھا تو سن لو کہ یہی سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔''
(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل قراء ۃ قل ھو اللہ احد ،رقم ۸۱۲، ص ۴۰۵)
 (۱۱۴۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ''ایک شخص نے کسی کو باربار قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھتے ہوئے سنا تو اسے بہت کم خیال کرتے ہوئے صبح کے وقت رسول ِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس کا تذکرہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''اس ذات کی قسم ! جسکے دست قدرت میں میری جان ہے یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔''
     (بخاری ،کتاب فضائل القرآن ،باب فضل قل ھواللہ احد ،رقم ۵۰۱۳، ج۳، ص ۴۰۶)
 (۱۱۴۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن انس جُہْنِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا،'' جو شخص دس مرتبہ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھے گااللہ عزوجل اس کے لئے جنت میں ایک محل بنائے گا۔'' حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو ہم اسے کثر ت سے پڑھا کریں گے۔'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ،''اللہ عزوجل بہت زیادہ عطا فرمانے والا اور پا ک ہے۔''
                 (مسند احمد، حدیث معاذ بن انس ،رقم ۱۵۶۱۰ ،ج۵،ص ۳۰۸)
 (۱۱۴۲)۔۔۔۔۔۔ اُمُّ المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک شخص کو کسی سریہ میں بھیجا تو وہ اپنے ساتھیوں کی امامت کراتے ہوئے اپنی قراء ت کو
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ
پر ختم کیا کرتا تھا ۔جب وہ لشکرواپس آیا اور لوگوں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ'' اس سے پوچھوکہ وہ ایسا کیوں کرتاہے ؟''جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا،'' اس لئے کہ اس میں رحمن عزوجل کی تعریف ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتاہوں۔'' تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''اسے خبر دے دو کہ اللہ عزوجل بھی اس سے محبت فرماتاہے۔''
 (بخاری، کتاب التوحید ،باب ماجاء دعاء النبی امتہ الی تو حید اللہ تبارک وتعالی، رقم ۷۳۷۵،ج۴، ص ۵۳۱)
 (۱۱۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس شخص سے دریافت فرمایاکہ ''اے فلاں!تمہیں اپنے ساتھیوں کا کہنا ماننے سے کو نسی چیز روکتی ہے اور ہر رکعت میں پابندی سے یہی سورت پڑھنے پر کونسی چیز آمادہ کرتی ہے ؟' 'اس نے عرض کیا، ''میں اسے پسند کرتا ہوں ۔''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' تیرا اسے پسند کرنا تجھے جنت میں داخل کردے گا۔''
    ( بخاری ، کتاب الاذان، باب الجمع بین السورتین فی الرکعۃ ،رقم ۷۷۴ ،ج۱ ،ص۲۷۳)
 (۱۱۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین،
Flag Counter