Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
405 - 736
سورہ مُلک پڑھنے کا ثواب
(۱۱۳۲)۔۔۔۔۔۔ حضر ت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک قرآن میں تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت ہے جو اپنے قاری کیلئے شفاعت کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت کردی جائے گی اور یہ
تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ
ہے۔''
 (ترمذی ،کتاب فضائل القرآن،باب ماجاء فی فضل سورۃ الملک، رقم ۲۹۰۰، ج۴، ص ۴۰۸)
 (۱۱۳۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' جو شخص روزانہ رات میں تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ پڑھے گااللہ عزوجل اسے عذابِ قبر سے محفوظ فرمادے گا ۔''سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اسے مانِعہ (یعنی عذاب قبر سے بچانے والی ) کہا کرتے تھے اور بیشک یہ قرآن کی ایک ایسی سورت ہے جو اسے رات میں پڑھتا ہے وہ بہت زیادہ اور اچھا عمل کرتاہے۔
 (عمل الیوم واللیلۃ مع السنن الکبری للنسائی الجزء الثالث،رقم ۱۰۵۴۷، ج۶، ص ۱۷۹)
 (۱۱۳۴) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اﷲ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ،'' جب بندہ قبر میں جائے گا تو عذاب اس کے قدموں کی جانب سے آئے گا تو اس کے قدم کہیں گے تیرے لئے میری طرف سے کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ رات میں سورۂ ملک پڑھا کرتاتھا ۔پھر عذاب اس کے سینے یا پیٹ کی طر ف سے آئے گا تو وہ کہے گا کہ تمہارے لئے میری جانب سے کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ رات میں سورہ ملک پڑھا کرتاتھا،پھر وہ اس کے سر کی طر ف آئے گا تو سر کہے گا کہ تمہارے لئے میری طرف سے کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ رات میں سورۂ ملک پڑھا کرتاتھا۔'' تو یہ سورت روکنے والی ہے، عذاب قبر سے روکتی ہے ،توراۃ میں اس کانام سورۂ ملک ہے جو اسے رات میں پڑھتا ہے بہت زیادہ اور اچھا عمل کرتا ہے۔''
 (المستدرک ،کتاب التفسیر ، باب المانعۃ من عذاب القبر سورۃ الملک ، رقم ۳۸۹۲ ، ج۳ ،ص ۳۲۲)
 (۱۱۳۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک قبر پر اپنا خیمہ لگایامگرانہیں علم نہ تھاکہ یہا ں قبر ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہاں کسی شخص کی قبر ہے جو سورہ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے پوری سورت ختم کی۔ وہ صحابی رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک قبر پرخیمہ  تان لیا مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ وہاں قبر ہے جبکہ وہاں ایک ایسے شخص کی قبرہے جو روزانہ پوری سورۃُ الملک پڑھتاہے ۔''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ''یہی روکنے والی ہے، یہی نجا ت دلا نے والی ہے جس نے اسے عذابِ قبر سے محفوظ رکھا۔''
 (ترمذی ،کتاب فضائل القرآن ،باب ماجاء فضل سورۃ الملک، رقم ۲۸۹۹، ج۴، ص ۴۰۷)
Flag Counter